کابل (پاک ٹوڈے): افغانستان کے لیے سابق امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے پاکستان کی جانب سے افغانستان میں کیے گئے فضائی حملوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائیاں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب پاکستان کو اندرونی بحرانوں کا بھی سامنا ہے۔
زلمے خلیل زاد نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے اپنے داخلی بحرانوں اور افغانستان کے ساتھ تعلقات سے نمٹنے کے لیے اختیار کیا گیا موجودہ طریقہ کار مؤثر ثابت نہیں ہو رہا اور اسی حکمت عملی کو جاری رکھنا مسائل کا حل نہیں ہوگا۔
سابق امریکی نمائندہ خصوصی نے مثال دیتے ہوئے کہا، ’’جب کوئی شخص گڑھے میں ہو تو دانشمندی یہ ہے کہ اسے گڑھے سے باہر نکالا جائے۔‘‘
زلمے خلیل زاد کے مطابق پاکستان کو اپنے بڑے داخلی بحرانوں اور افغانستان کے ساتھ تعلقات سے نمٹنے کے طریقہ کار میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے، تاہم ان کے بقول موجودہ پاکستانی قیادت نے اس پالیسی میں تبدیلی کے حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کی موجودہ حکمت عملی جاری رہنے کا نتیجہ پاکستان اور افغانستان دونوں کے لیے مزید مشکلات کی صورت میں سامنے آسکتا ہے۔
