اسلام آباد (پاک ٹوڈے): سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے بھائی اور رکن قومی اسمبلی فیصل امین گنڈاپور نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے بھائی کو پنجاب پولیس کی حراست کے دوران شدید تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے گردن کے پچھلے حصے پر بجلی کے جھٹکے دیے گئے تھے۔
سوشل میڈیا پر اپنے ایک اہم بیان میں فیصل امین گنڈاپور نے علی امین گنڈاپور کی سرجری کے بعد کی تصاویر بھی شیئر کیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ وہ اپنے بھائی کی اس حالت کی تصاویر عام نہیں کرنا چاہتے تھے، تاہم مخالفین اور کچھ عناصر کی جانب سے کیے جانے والے بے بنیاد پروپیگنڈے کا جواب دینے کے لیے انہیں یہ قدم اٹھانا پڑا۔
رکن قومی اسمبلی کے مطابق، حراست کے دوران ملنے والے زخم اور تکلیف دہ چوٹ کو علی امین گنڈاپور برسوں سے برداشت کر رہے تھے، جسے بالآخر دور کرنے کے لیے حال ہی میں ان کی گردن کی سرجری کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس طبی عمل کے دوران ان کی گردن کے پچھلے حصے پر 9 ٹانکے آئے ہیں۔
فیصل امین گنڈاپور نے تنقید کرنے والوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے مزید کہا کہ جو لوگ اس حوالے سے پروپیگنڈا کر رہے ہیں، اگر ان کے اپنے پیاروں کو اس قسم کے سخت حالات اور تشدد سے گزرنا پڑے تب ہی انہیں اس تکالیف اور شدت کا اندازہ ہو سکے گا۔
