نیویارک (پاک ٹوڈے): نیویارک کی وفاقی عدالت نے امریکی تاریخ کے بڑے ہیلتھ کیئر فراڈ کیسز میں سے ایک کا فیصلہ سناتے ہوئے پاکستانی نژاد خاتون ذکیہ خان کو 6 سال 4 ماہ قید کی سزا سنا دی ہے۔
عدالتی کارروائی کے دوران نیویارک کی وفاقی جج نے ملزمہ کو امریکی حکومت سے دھوکہ دہی اور مالی بے ضابطگیوں کا جرم ثابت ہونے پر سزا سنائی۔ عدالت نے ذکیہ خان کو دھوکہ دہی سے حاصل کی گئی رقم میں سے 56 ملین ڈالر امریکی حکومت کو واپس ادا کرنے کا حکم دیا ہے، جبکہ ان کے 5 ملین ڈالر کے اثاثے بھی ضبط کر لیے گئے ہیں۔
کیس کی تفصیلات کے مطابق ذکیہ خان نے بزرگ شہریوں کے لیے ڈے کیئر سینٹر قائم کر رکھا تھا، جس کی آڑ میں انہوں نے سرکاری ہیلتھ کیئر اسکیموں سے دھوکہ دہی کے ذریعے 64 ملین ڈالر کی غیر قانونی ادائیگیاں حاصل کیں۔
تفتیشی حکام کے مطابق ملزمہ کو 2024 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ مقدمے کی سماعت کے دوران ذکیہ خان نے اپنے جرائم کا باقاعدہ اعتراف بھی کر لیا تھا، جس کے بعد عدالت نے تمام دلائل اور شواہد کی روشنی میں فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے گزشتہ روز سزا سنائی۔
