لاہور (پاک ٹو ڈے): جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بلوچستان میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں حالات اس وقت انتہائی خراب ہوچکے ہیں اور روزانہ سڑکوں سے لاشیں مل رہی ہیں انہوں نے ملکی نظام، اسٹیبلشمنٹ اور نئے صوبوں کی تشکیل کی کوششوں پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا کہ طاقت کی بنیاد پر فیصلے مسلط کرنے کی سیاست اب نہیں چلے گی۔
لاہور میں ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اس وقت ڈمی نمائندے حکومت کر رہے ہیں اور اقلیت ملک پر حکمران ہے۔ سارا نظام ایک ایسے ’کاکے‘ کے سپرد کر رکھا ہے جس کی حیثیت ایک ذاتی ملازم سے زیادہ نہیں۔ اسلام آباد ٹریٹری کے لیے دو کمیٹیاں بنائی گئی ہیں، ایک میں بھی ’کاکاجی‘ ہے اور دوسری میں بھی کاکاجی ہے، دونوں کی رپورٹس میں تضاد ہے، تو کیا ہم پاکستان ایسے ذاتی نوکر کے حوالے کریں؟
انہوں نے کہا کہ ہم اس ملک میں رہیں گے اور اپنے ضمیر کے مطابق سچی بات کریں گے، ہم آپ کی خیرخواہی چاہتے ہیں لیکن آپ کو صرف خوشامد کی زبان اچھی لگتی ہے۔
ملکی حالات اور ماضی کا موازنہ کرتے ہوئے جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ ماضی میں اسی فوج کی حکومت تھی جس نے چاروں صوبوں کو یکجا کرکے ون یونٹ مغربی پاکستان بنایا تھا، لیکن اب اسی فوج کی سوچ بدل چکی ہے اور صوبوں کو چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ گھر کے کمروں میں ہر طرف آگ لگی ہوئی ہے اور ہمارے بھائی کہہ رہے ہیں کہ آؤ گھر کی تقسیم کرتے ہیں، کیا یہ کوئی عقل والی بات ہے؟ ایسے عقل مند ہمارے اوپر مسلط کیے گئے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ہم اصولاً نئے صوبے بنانے کے خلاف نہیں، تاہم اس کے لیے وقت، حالات اور قومی اتفاقِ رائے کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ پیپلز پارٹی بات تو کرتی ہے مگر اس کی دلچسپی صرف سندھ کی حد تک محدود ہے، جبکہ مسلم لیگ (ن) بالکل خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ نئے صوبوں یا کسی بھی آئینی تبدیلی پر یکطرفہ فیصلے مسلط کرنے کے بجائے پارلیمنٹ اور عوام کے سامنے کھلی بحث ہونی چاہیے، کیونکہ طاقت کے بل بوتے پر اب کوئی فیصلہ مسلط نہیں کیا جاسکتا۔
