جنیوا (پاک ٹوڈے): اقوام متحدہ کے انسانی کے ماہرین نے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے طالب علم عمران علی کی مبینہ جبری گمشدگی، دورانِ حراست شدید تشدد اور بعد ازاں غیر قانونی قتل پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان سے اس دلخراش واقعے کی فوری، آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
یو این ماہرین کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق ۲۷ اگست ۲۰۲۵ کو عمران علی کو انسدادِ دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے تقریباً ۲۰ ایجنٹوں نے ان کے اپارٹمنٹ سے اغوا کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا تھا، جس کے بعد ایک سال تک اہلخانہ کو ان کے بارے میں کوئی سرکاری معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ بعد ازاں ۶ اگست ۲۰۲۶ کو جبری گمشدگیوں کی انکوائری کمیشن کے سامنے ایک پولیس افسر نے انکشاف کیا کہ علی کو مئی ۲۰۲۶ میں ایک مبینہ مقابلے میں مار دیا گیا تھا اور شناخت نہ ہونے کا جواز بنا کر جون ۲۰۲۶ میں ان کی تدفین کر دی گئی۔
اہلخانہ نے کوئٹہ سول ہسپتال کے ریکارڈ اور تصاویر کی مدد سے لاش کی شناخت کی، جہاں عمران علی کے علاوہ چھ دیگر نامعلوم لاشیں بھی بغیر کسی قانونی دستاویزات یا اطلاع کے لائی گئی تھیں۔ اقوام متحدہ کے ماہرین نے اس عمل کی سخت مذمت کرتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور مبینہ جعلی مقابلوں کا یہ سلسلہ ایک گہری تشویش کا باعث ہے جو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔
ماہرین کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ کوئی منفرد یا الگ تھلگ کیس نہیں بلکہ بلوچستان میں جاری وسیع تر سیکیورٹی آپریشنز اور اجتماعی سزا کے عمل کی عکاسی کرتا ہے۔ اقوام متحدہ نے مطالبہ کیا ہے کہ عمران علی کی موت کی حقیقی وجوہات جاننے کے لیے آزادانہ میڈیکل معائنہ کرایا جائے، ذمہ داروں کا تعین کر کے انہیں قانون کے کٹھہرے میں لایا جائے اور لاش کو مکمل عزت و احترام کے ساتھ ان کے خاندان کے حوالے کیا جائے۔ اقوام متحدہ کے ماہرین اس تشویشناک صورتحال پر مسلسل حکومتِ پاکستان کے ساتھ رابطے میں ہیں۔
