اسلام آباد (پاک ٹوڈے): وفاقی حکومت کی جانب سے ملک بدر کیے جانے کے بعد غیر قانونی طور پر دوبارہ پاکستان میں داخل ہونے والے افغان شہریوں کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کا انتباہ جاری کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر محمد طلال چوہدری نے اپنے ایک پالیسی بیان میں واضح کیا ہے کہ قانونی دستاویزات کے بغیر سرحد پار کر کے واپس آنے والے تمام افراد کے خلاف ریاست بغیر کسی رعایت کے سخت اقدامات کرے گی۔
طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی اداروں کے کریک ڈاؤن کے دوران دوبارہ پکڑے جانے والے افراد کو صرف بے دخلی تک محدود نہیں رکھا جائے گا، بلکہ ان کے خلاف سخت عدالتی چارہ جوئی، طویل قید اور بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان میں قیام صرف قانونی سفری دستاویزات اور باقاعدہ ویزے کی بنیاد پر ہی ممکن ہے اور سرحدی نگرانی و ملکی قوانین کے نفاذ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
