پشاور (پاک ٹوڈے): کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) پشاور ریجن کی جانب سے میرکچوری کے علاقے میں انجام دیے گئے حالیہ آپریشن نے جہاں سرکاری سطح پر کامیابی کا دعویٰ کیا ہے، وہیں مقامی حلقوں اور قانونی ماہرین کی جانب سے اس واقعے کو ‘جعلی پولیس مقابلہ’ قرار دے رہے ہیں۔
سی ٹی ڈی کے مطابق مہر گل کلے کے ایک قبرستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 4 مبینہ شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا اور ان کے قبضے سے اسلہ برآمد ہوا۔ تاہم، آزاد ذرائع اور تجزیہ کار اس روایتی بیانیے پر شدید سوالات اٹھا رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ہر بار کی طرح اس بار بھی کسی اہلکار کا زخمی نہ ہونا، جائے وقوعہ کے طور پر ایک ویران قبرستان کا انتخاب، اور بغیر کسی گرفتاری کے چاروں مشتبہ افراد کو موقع پر ہی مار دینا اس کارروائی کو مشکوک بناتا ہے۔
انسانی حقوق کے فعال کارکنوں اور مقامی شہریوں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ماضی میں بھی سی ٹی ڈی کی جانب سے متعدد مبینہ مقابلے بعد میں ماورائے عدالت قتل ثابت ہو چکے ہیں۔ قانون کی بالادستی کا تقاضا ہے کہ کسی بھی مشتبہ شخص کو عدالت میں پیش کر کے قانون کے مطابق سزا دی جائے، نہ کہ ‘پولیس مقابلے’ کا ڈرامہ رچا کر موقع پر ہی فیصلہ کر دیا جائے۔ عوامی و سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ میرکچوری واقعے کی فوری انکوائری کروائی جائے تاکہ حقیقت سامنے آ سکے اور انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔
