اسلام آباد ( پاک ٹوڈے): سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی طبی رپورٹ میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت سے متعلق تازہ تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ چار رکنی میڈیکل بورڈ نے ذہنی دباؤ کم کرنے کے لیے انہیں اہلخانہ سے زیادہ ملاقاتوں کے ساتھ اخبارات، ٹی وی اور کتابوں کی سہولت دینے کی سفارش کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یکم اگست کو کنسلٹنٹ کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر اختر علی بندیشہ نے عمران خان کا طبی معائنہ کیا۔ اس دوران انہوں نے بلڈ پریشر میں اتار چڑھاؤ، سر درد اور بے چینی کی شکایت کی۔ معائنے میں بلڈ پریشر 140/100 جبکہ نبض 50 فی منٹ ریکارڈ کی گئی، تاہم ای سی جی میں کوئی اہم غیر معمولی تبدیلی سامنے نہیں آئی۔
میڈیکل بورڈ نے ابتدائی طور پر بلڈ پریشر کی ادویات میں تبدیلی اور اضافے کی تجویز دی، جبکہ عمر اور ذہنی دباؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے سی ٹی کورونری انجیوگرافی پر بھی غور کرنے کی سفارش کی۔
بعد ازاں 10 اگست کو چار رکنی میڈیکل بورڈ نے دوبارہ عمران خان کا معائنہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق اس موقع پر بلڈ پریشر 140/80 اور نبض 54 فی منٹ تھی۔ عمران خان نے سینے میں درد، سینے پر بوجھ، سانس میں دشواری یا دل کی دھڑکن تیز ہونے کی شکایت نہیں کی۔
تازہ طبی معائنے کے دوران ای سی جی نارمل رہی، جبکہ ایکو کارڈیوگرافی میں دل کے والوز اور چیمبرز بھی معمول کے مطابق پائے گئے۔ میڈیکل بورڈ نے مزید کارڈیک ٹیسٹ، خصوصاً سی ٹی انجیوگرافی، کی ضرورت نہ ہونے کی رائے دی۔
رپورٹ میں عمران خان کو روزانہ تقریباً ایک گھنٹہ چہل قدمی کرنے کا مشورہ بھی دیا گیا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق جیل کے موجودہ حالات میں ذہنی دباؤ کم کرنے کے لیے انہیں کتابیں، اخبارات اور ٹی وی کی سہولت فراہم کرنا مفید ہوگا۔
میڈیکل بورڈ نے اہلخانہ سے ملاقاتوں میں اضافہ کرنے کی بھی سفارش کی ہے اور کہا ہے کہ اس اقدام سے بے چینی اور بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سرکاری ڈاکٹر باقاعدگی سے عمران خان کا طبی معائنہ کر رہے ہیں، جبکہ ان کی ایک آنکھ کی حالت بھی تقریباً معمول پر آچکی ہے۔
رپورٹ میں ایک جانب عمران خان کی بعض جسمانی شکایات کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم حالیہ کارڈیک معائنے میں اہم غیر معمولی علامات سامنے نہ آنے کی بات بھی رپورٹ کا حصہ ہے۔
