واشنگٹن (پاک ٹوڈے): امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں واقع چینی سفارتخانے نے امریکا کی جانب سے عائد کردہ الزامات اور یکطرفہ تجارتی اقدامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیرف اور تجارتی جنگیں کسی کے لیے بھی فائدے کا باعث نہیں بنتیں اور نہ ہی ان سے کوئی فاتح پیدا ہوتا ہے۔
چینی سفارتخانے کے ترجمان نے اپنے باضابطہ بیان میں واضح کیا کہ بیجنگ اپنی مصنوعات اور کمپنیوں کو دبانے کے لیے ‘قومی سلامتی’ کا جواز پیش کرنے اور یکطرفہ ٹیرف عائد کرنے کے امریکی اقدامات کو مکمل طور پر ناخوشگوار اور ناقابلِ قبول سمجھتا ہے۔ سفارتخانے نے تاکید کی کہ بین الاقوامی ترسیل اور تجارتی پالیسیوں کے ذریعے کسی تیسرے فریق کے مفادات کو نقصان نہیں پہنچایا جانا چاہیے اور اگر ضرورت پڑی تو چین اپنے قومی و معاشی مفادات کا تحفظ کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے گا۔
دوسری جانب چینی حکام اور معاشی ماہرین نے چین پر ‘امریکی ٹیرف سے بچنے کے لیے بڑے پیمانے پر تجارتی دھوکہ دہی’ کے امریکی الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر چینی کمپنیاں اپنی پیداواری لائنز کو عالمی سطح پر مختلف ممالک میں متنوع بنا رہی ہیں تو یہ عالمی سپلائی چین کی ایک قدرتی اور عام معاشی تبدیلی ہے، جسے امریکی حکام کی جانب سے ٹیرف سے بچنے یا دھوکہ دہی کا نام دینا سراسر غیر منصفانہ ہے۔
