واشنگٹن (پاک ٹوڈے): امریکی تحقیقی ویب سائٹ ‘ایکسوئس’ نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگ بندی کے عمل کے دوران ایرانی طاقتور ترین فورس ‘پاسدارانِ انقلاب’ کی قیادت سے خفیہ بیک چینل رابطے قائم کیے، جس میں عراقی کردستان کے صدر نیچروان بارزانی نے بطور ثالث اور پیغام رساں اہم کردار ادا کیا۔
ایکسوئس کی رپورٹ کے مطابق، رواں برس مئی کے وسط میں امریکی مذاکرات کار اس الجھن کا شکار تھے کہ آیا سینیئر ایرانی سفارت کار اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف واقعتاً پاسدارانِ انقلاب کی نمائندگی کر رہے ہیں یا نہیں، کیونکہ مذاکراتی عمل میں مسلسل تاخیر ہو رہی تھی۔ اس تعطل کو توڑنے کے لیے ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس تلسی گبارڈ نے صدر ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کی منظوری سے کردستان ریجن کے صدر نیچروان بارزانی سے رابطہ کیا۔ بارزانی کو واشنگٹن اور تہران دونوں کے اعلیٰ ترین حلقوں میں یکساں اعتماد اور احترام حاصل ہے۔
رپورٹ کے مطابق، بارزانی کی درمیانداری کے بعد 14 مئی کو اربیل میں پاسدارانِ انقلاب کے اہلکار نے انکرپٹڈ فون کے ذریعے کمانڈر جنرل احمد وحیدی سے بارزانی کی بات کروائی، جس میں جنرل وحیدی نے تصدیق کی کہ پاسدارانِ انقلاب ایرانی مذاکرات کاروں کے موقف کی مکمل حمایت کرتی ہے اور بحران کا حل مذاکرات کے ذریعے چاہتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگرچہ اربیل میں سیکیورٹی خدشات اور اسرائیلی انٹیلی جنس کے خطرے کے باعث براہِ راست امریکی و ایرانی ملاقات نہ ہو سکی، تاہم حالیہ دنوں میں بھی بارزانی نے مذاکرات کی بحالی کے لیے اپنی خدمات کی پیشکش کی ہے۔
