پشاور (پاک ٹوڈے): خیبرپختونخوا حکومت نے اسکولوں سے محروم اور باہر موجود بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے لیے ایک جامع اور جدید منصوبے کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے، جس کے تحت متعلقہ محکموں کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے گئے ہیں۔
منصوبے کے تحت جدید ‘ون میپ’ نظام اور جامع سروے کے ذریعے تعلیمی سہولیات سے محروم بچوں کی درست تعداد اور ان کے علاقوں کا مکمل ڈیٹا جمع کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں اسکولوں سے باہر موجود 60 فیصد بچوں کو تعلیمی دھارے میں شامل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
حکومتی حکمتِ عملی کے مطابق بچوں کو سرکاری و کمیونٹی اسکولوں، ڈبل شفٹ کلاسز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے تعلیم دی جائے گی۔ علاوہ ازیں، مستحق بچوں کو تعلیمی وظائف، زکوٰۃ فنڈ اور دیگر مالی معاونت فراہم کی جائے گی، جبکہ وظائف کی فراہمی کو کم از کم 75 فیصد اسکول حاضری سے مشروط رکھا گیا ہے۔
اس منصوبے میں ‘جنریشن ان لمیٹڈ’ کے تحت بچوں کو فنی و تکنیکی تربیت بھی دی جائے گی۔ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے جمع کیے گئے سروے ڈیٹا کے 5 فیصد حصے کی تصدیق ایک غیر جانبدار اور آزاد ادارے سے کرائی جائے گی۔
