اسلام آباد (پاک ٹوڈے): جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ وہ 34 سال سے سیاست میں ہیں، لیکن آج تک کسی عدالت میں پیش نہیں ہوئے اور ان کی سیاسی زندگی میں کرپشن کا کوئی مقدمہ درج نہیں ہوا۔ ان کے مطابق احتساب کے ادارے احتساب کے بجائے انتقامی کارروائیوں میں مصروف ہیں اور ان کی کردار کشی کے لیے مختلف نوٹس اچھالے جا رہے ہیں۔
قومی تعلیمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے حکومت پر طلبہ اور اساتذہ کو اجتماعات منعقد کرنے سے روکنے پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ دینی مدارس کو سرکاری کنٹرول میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ تعلیم کے ساتھ تربیت بھی ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا کو ان کے خلاف جاری نوٹسز کے بجائے ان کا اصل مؤقف اور ملکی مسائل عوام کے سامنے لانے چاہئیں۔
مولانا فضل الرحمٰن نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ پر بھی سوالات اٹھائے اور کہا کہ سیکیورٹی آپریشنز کے باوجود شدت پسندی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے قبائلی علاقوں میں آپریشنز کے مقاصد پر سوال اٹھاتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ کہیں ان کا تعلق معدنی ذخائر پر قبضے سے تو نہیں۔
انہوں نے صوبوں کے وسائل، معدنی ذخائر، ساحلوں اور جزائر کو عوام کی ملکیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ میں کمی اور صوبائی وسائل سے متعلق فیصلوں پر قوم کو اعتماد میں لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جے یو آئی دباؤ کے باوجود اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گی اور صوبوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے آواز اٹھاتی رہے گی۔
