شاہین آفریدی| پشاور
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے سری لنکا کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی ہوم سیریز سے قبل قومی اسکواڈ میں اہم تبدیلیاں کرتے ہوئے چار مزید کھلاڑیوں کو شامل کر لیا ہے۔ نئے اعلان کے مطابق آل راؤنڈر عامر جمال کے ساتھ نوجوان فاسٹ باؤلر علی شبیر، بیٹر محمد طیب عارف اور فاسٹ باؤلر ثاقب خان کو 16 رکنی قومی اسکواڈ کا حصہ بنایا گیا ہے، جبکہ علی عثمان اور عبداللہ فضل کو ٹیم سے ریلیز کر دیا گیا ہے۔
تین نئے کھلاڑیوں، علی شبیر، محمد طیب عارف اور ثاقب خان کو پہلی مرتبہ قومی ٹیسٹ ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔ ان کی شمولیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ سلیکٹرز نے ڈومیسٹک کرکٹ میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کو بین الاقوامی سطح پر موقع دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ تینوں کھلاڑی سری لنکا کے خلاف اسلام آباد کلب میں کھیلے گئے تین روزہ پریکٹس میچ میں پاکستان پیٹرنز الیون کی نمائندگی بھی کر چکے ہیں۔
نئے اسکواڈ میں شامل بیٹر محمد طیب عارف نے ڈپارٹمنٹل فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ میں کنگز مین اکیڈمی کی نمائندگی کرتے ہوئے سات میچوں میں 727 رنز بنائے۔ ان کی اوسط 66.09 رہی، جبکہ انہوں نے تین سنچریاں بھی اسکور کیں۔ یہ کارکردگی انہوں نے اپنے پہلے فرسٹ کلاس سیزن میں دکھائی۔
انیس سالہ فاسٹ باؤلر علی شبیر نے آٹھ فرسٹ کلاس میچوں میں 22 وکٹیں حاصل کیں۔ سری لنکا کے خلاف پریکٹس میچ میں بھی انہوں نے تین وکٹیں لے کر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔
دوسری جانب ثاقب خان نے قائداعظم ٹرافی 2025-26 میں کراچی بلیوز کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے نو میچوں میں 20.60 کی اوسط سے 47 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ ان کی بہترین انفرادی کارکردگی 34 رنز کے عوض سات وکٹیں حاصل کرنا رہی۔
عامر جمال کی قومی ٹیسٹ اسکواڈ میں واپسی بھی پاکستان کے لیے اہم پیش رفت ہے۔ وہ اب تک پاکستان کی جانب سے نو ٹیسٹ، تین ون ڈے اور چھ ٹی ٹوئنٹی میچ کھیل چکے ہیں۔ حال ہی میں پریزیڈنٹ ٹرافی گریڈ ون کے فائنل میں انہوں نے 32 رنز دے کر سات وکٹیں حاصل کیں اور بیٹنگ میں بھی 55 رنز کی اہم اننگز کھیلی۔ آل راؤنڈر کی حیثیت سے وہ پاکستان کو بیٹنگ اور باؤلنگ، دونوں شعبوں میں اضافی آپشن فراہم کر سکتے ہیں۔
قومی ٹیم کے تجربہ کار فاسٹ باؤلر محمد عباس نے نوجوان کھلاڑیوں کی شمولیت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ان کے لیے اپنی صلاحیتیں دکھانے اور مستقبل میں ٹیم میں جگہ بنانے کا بڑا موقع ہے۔ ان کے مطابق ٹیم میں نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دینا ایک مثبت پیش رفت ہے۔ تاہم، انہوں نے سری لنکا کو آسان حریف سمجھنے سے گریز کرنے اور کنڈیشنز کے مطابق کارکردگی دکھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
وکٹ کیپر بیٹر سعد بیگ نے پریکٹس میچ کے حوالے سے کہا کہ وائٹ بال کرکٹ سے ریڈ بال کرکٹ میں منتقلی کے لیے ذہنی انداز تبدیل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ان کے مطابق کھلاڑیوں کو اپنا فطری کھیل برقرار رکھتے ہوئے طویل دورانیے کی کرکٹ کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالنا ہوگا۔
کرکٹ کے تجزیے کے اعتبار سے پاکستان کے لیے اس سیریز میں سب سے اہم سوال یہ ہوگا کہ نوجوان کھلاڑی ٹیسٹ کرکٹ کے دباؤ میں کس طرح کارکردگی دکھاتے ہیں۔ بیٹنگ میں تسلسل، نئی گیند کے خلاف بہتر دفاع، باؤلنگ میں لائن اور لینتھ برقرار رکھنا اور فیلڈنگ میں بہتری پاکستان کی کامیابی کے لیے اہم عوامل ہوں گے۔ عامر جمال کی واپسی سے باؤلنگ کے ساتھ بیٹنگ میں بھی گہرائی پیدا ہو سکتی ہے، تاہم حتمی ٹیم کمبی نیشن کا انحصار پچ اور موسم کی صورتحال پر ہوگا۔
پاکستان اور سری لنکا کے درمیان پہلا ٹیسٹ 9 سے 13 نومبر تک راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا، جبکہ دوسرا ٹیسٹ 17 سے 21 نومبر تک لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں شیڈول ہے۔ دونوں میچز آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ 2025-27 کا حصہ ہیں۔
پاکستانی ٹیم کے 16 رکنی اسکواڈ کی قیادت بابر اعظم کریں گے۔ اسکواڈ میں عامر جمال، علی شبیر، عرافات منہاس، اذان اویس، محمد عباس، محمد غازی غوری، محمد سلیمان، محمد طحہ، محمد طیب عارف، رضاؤاللہ، سعد بیگ، سلمان علی آغا، سمیر منہاس، ثاقب خان اور سعود شکیل شامل ہیں۔
اس سیریز میں پاکستان کو نہ صرف ہوم گراؤنڈ کا فائدہ حاصل ہوگا بلکہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں اپنی پوزیشن بہتر بنانے کا موقع بھی ملے گا۔ نوجوان کھلاڑیوں کی شمولیت نے اسکواڈ میں نئی توانائی پیدا کی ہے، لیکن اصل امتحان میدان میں ہوگا، جہاں بابر اعظم کی قیادت اور ٹیم کی مجموعی کارکردگی سیریز کا نتیجہ طے کرے گی۔
