حمید سمسور
کوئٹہ ڈویژن کے کمشنر ذیشان لاشاری نے 96 غیر رجسٹرڈ دینی مدارس کی رجسٹریشن کا عمل تیز کرنے اور ڈویژن بھر میں تعلیم و صحت کی عوامی سہولیات بہتر بنانے کی ہدایت کی ہے۔ رجسٹریشن کا مقصد دینی تعلیمی اداروں کو ایک منظم اور شفاف نظام کے تحت لانا اور ان کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانا ہے۔
کمشنر نے یہ ہدایات ڈویژنل مانیٹرنگ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں، جس میں ڈپٹی کمشنرز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور وفاقی محکموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
انہوں نے سپیشل برانچ کو ہدایت کی کہ مدارس کی تازہ ترین جغرافیائی تفصیلات فراہم کی جائیں، جبکہ بلوچستان چیریٹی رجسٹریشن اتھارٹی کو ان کی رجسٹریشن کا عمل تیز کرنے کا حکم دیا۔
انسدادِ شدت پسندی کے اقدامات کا جائزہ لیتے ہوئے اجلاس میں مشتبہ افراد کی پروفائلنگ اور انٹیلی جنس اداروں کے درمیان رابطہ کاری پر بھی غور کیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ فورتھ شیڈول میں شامل 120 افراد کا ریکارڈ (BISA) ٹریکنگ ڈیش بورڈ پر اپ لوڈ کر دیا گیا ہے۔
مدارس کی رجسٹریشن کے نوٹسز پر ردِعمل
مدارس کی رجسٹریشن کے نام پر نوٹسز دباؤ ڈالنے کی کوشش ہے، مولانا عبدالواسع
انتظامیہ کی جانب سے مدارس کی رجسٹریشن کے لیے نوٹسز جاری کیے جانے پر جمعیت علماء اسلام (ف) بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ مدارس دینی اور تعلیمی خدمات بخوبی انجام دے رہے ہیں، انہیں غیر ضروری نوٹسز کے ذریعے ہراساں کرنا قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی میں مدارس کے بل سے راہِ فرار اختیار کرنے کے بعد اب نوٹسز کے ذریعے دباؤ بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مولانا عبدالواسع کے مطابق مدارس کی رجسٹریشن کی راہ میں صوبائی اور مرکزی حکومت رکاوٹ ہیں۔ دینی مدارس کے حقوق، خودمختاری اور تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کا سرکلر
رواں ماہ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کے دفتر سے جاری کردہ سرکلر میں کوئٹہ کے مغربی علاقوں میں قائم تمام دینی مدارس کے منتظمین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سات روز کے اندر بلوچستان چیریٹی اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (BCRA) کے تحت اپنی رجسٹریشن مکمل کرائیں اور ضروری دستاویزات کے ہمراہ متعلقہ دفتر میں حاضر ہوں، بصورتِ دیگر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
بلوچستان میں مدارس کے اعداد و شمار
بلوچستان حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں 2 ہزار 600 سے زائد مدارس قائم ہیں، جن میں سے تقریباً 2 ہزار 100 مختلف قوانین کے تحت رجسٹرڈ ہیں، جبکہ 500 سے زائد مدارس کسی بھی قانون کے تحت رجسٹرڈ نہیں ہیں۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ بعض مدارس میں غیر ملکی طلبہ کی موجودگی اور غیر ملکی فنڈنگ کے امکانات کے باعث رجسٹریشن کا عمل ضروری ہے۔
پس منظر: مدارس کی رجسٹریشن کا مسئلہ
پاکستان میں مدارس کی رجسٹریشن کا معاملہ ایک پیچیدہ موضوع رہا ہے، جو کئی دہائیوں سے زیرِ بحث ہے۔
ملک میں اس وقت مختلف مکاتبِ فکر سے وابستہ مدارس کے پانچ بڑے تعلیمی بورڈز کام کر رہے ہیں، جن کے مشترکہ پلیٹ فارم کو اتحادِ تنظیماتِ مدارس پاکستان کہا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق مدارس کے لیے مرکزی رجسٹریشن نظام نہ ہونے کے باعث ان کے نصاب اور مالی معاونت کی نگرانی کے حوالے سے حکومتی سطح پر مؤثر نظام موجود نہیں تھا۔
جمعیت علماء اسلام (ف) سے وابستہ دینی مدارس وفاق المدارس العربیہ پاکستان سے منسلک ہیں، جو دیوبندی مکتبِ فکر کا تعلیمی بورڈ ہے۔ یہ مدارس خیبر پختونخوا، بلوچستان اور جنوبی پنجاب سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں قائم ہیں، جہاں دیوبندی مکتبِ فکر کا نصاب پڑھایا جاتا ہے۔
مدارس کی رجسٹریشن کا عمل ماضی میں سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ 1860 کے تحت جاری رہا ہے۔
ایک حالیہ تحقیق کے مطابق ملک میں مدارس کی تعداد 37 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، جن میں سب سے زیادہ مدارس پنجاب میں ہیں۔ اندازوں کے مطابق ان مدارس میں 40 لاکھ سے زائد طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔
