27 ستمبر کا لانگ مارچ، بھاگنا ہی تھا تو احتجاج کی کال کیوں دی، عطا تارڑ

اسلام آباد (پاک ٹوڈے): وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے پاکستان تحریک انصاف کے 27 ستمبر کے احتجاج اور لانگ مارچ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پی ٹی آئی نے احتجاج سے پیچھے ہٹنا ہی تھا تو کال کیوں دی گئی۔
اسلام آباد میں وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے خیبرپختونخوا اختیار ولی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ 27 ستمبر کے لانگ مارچ کی تاریخ پی ٹی آئی نے خود دی تھی، تاہم بعد میں اسے 4 اکتوبر تک مؤخر کردیا گیا۔
وزیر اطلاعات نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے مارچ کے حوالے سے مؤثر تیاری نہیں کی گئی تھی۔ ان کے مطابق 27 ستمبر کا لانگ مارچ ’’کھودا پہاڑ نکلا چوہا‘‘ ثابت ہوا۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے پہلے کہا جاتا رہا کہ بانی پی ٹی آئی کی اجازت کے بغیر مارچ مؤخر نہیں کیا جائے گا، تاہم بعد میں صورتحال مختلف نظر آئی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اب کوئی بھی تاریخ دے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
انہوں نے پی ٹی آئی پر شدت پسندوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ پارٹی کے رہنما شدت پسندوں کی مذمت تک نہیں کرتے۔ عطا تارڑ نے کہا کہ پولیس اور سکیورٹی فورسز شدت پسندی کے خلاف کارروائیوں میں جانی نقصان اٹھا رہی ہیں اور حکومت کا مؤقف واضح ہے کہ شدت پسندی کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔
وزیر اطلاعات نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے حوالے سے کہا کہ وہ اپنی جماعت میں ساکھ کھو چکے ہیں۔
پریس کانفرنس میں عطا اللہ تارڑ نے وزیراعظم شہباز شریف کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے فلسطین اور کشمیر سمیت مسلم امہ کا مقدمہ عالمی فورم پر بھرپور انداز میں پیش کیا اور فلسطینی نمائندوں نے بھی خطاب کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور فلسطین کے حق میں اپنی آواز بلند کرتا رہے گا۔ ان کے مطابق فلسطینی طلبہ کی پاکستان میں میڈیکل تعلیم کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔
کشمیر کے حوالے سے عطا تارڑ نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ تھا، ہے اور رہے گا۔ پاکستان کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔
سندھ طاس معاہدے کے معاملے پر وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم نے بھارت کو واضح پیغام دیا ہے کہ معاہدے کی معطلی کو جنگی اقدام سمجھا جائے گا۔ ان کے مطابق پاکستان اپنے مفادات اور حقوق کے تحفظ کے لیے واضح مؤقف رکھتا ہے۔
سعودی عرب کے حوالے سے عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہے اور دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات اہم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں بھارت کو جواب دیا گیا اور پاکستان نے اپنے دفاع اور قومی سلامتی کے معاملے پر واضح مؤقف اختیار کیا۔
عطا تارڑ نے عالمی معیشت اور تیل کی قیمتوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جلد تیل کی قیمتیں نیچے آئیں گی اور عالمی معیشت میں بہتری کے اثرات آنے والے دنوں میں سامنے آئیں گے۔
دوسری جانب وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے خیبرپختونخوا اختیار ولی خان نے بھی پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے مارچ پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پارٹی نے احتجاج کے لیے کوئی تیاری نہیں کی تھی۔
اختیار ولی نے کہا کہ لانگ مارچ کے حوالے سے بہت شور مچایا گیا، لیکن عملی طور پر کچھ نہیں نکلا۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر پی ٹی آئی نے احتجاج سے پیچھے ہٹنا ہی تھا تو احتجاج کی کال کیوں دی گئی۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ تحریک انصاف کے رہنما اپنی جماعت اور کارکنوں سے جھوٹ بولتے ہیں اور کارکنوں کے سامنے احتجاج اور لانگ مارچ کے بڑے دعوے کیے جاتے ہیں، جبکہ عملی اقدامات مختلف دکھائی دیتے ہیں۔
اختیار ولی خان نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں پولیس اور سکیورٹی فورسز شدت پسندی کے خلاف کارروائیوں میں جانی نقصان اٹھا رہی ہیں اور ان کے خاندانوں کے ساتھ کھڑا ہونا سب کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا میں امن و امان کے قیام کے لیے 800 ارب روپے دیے ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ تحریک انصاف خیبرپختونخوا پولیس کو آئی ایس ایف فورس میں تبدیل کرنا چاہتی ہے اور پولیس کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہونے دینا چاہیے۔
کوہاٹ کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے اختیار ولی نے کہا کہ اس واقعے نے پوری قوم کو یکجا کردیا ہے۔ انہوں نے تحریک انصاف سے مطالبہ کیا کہ وہ واضح کرے کہ وہ پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے یا شدت پسندی کے ساتھ۔

27 ستمبر کا لانگ مارچ، بھاگنا ہی تھا تو احتجاج کی کال کیوں دی، عطا تارڑ

وزیر اطلاعات کا پی ٹی آئی پر تنقید، اختیار ولی کا بھی لانگ مارچ کی تیاری نہ کرنے کا دعویٰ

اسلام آباد (پاک ٹوڈے): وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے پاکستان تحریک انصاف کے 27 ستمبر کے احتجاج اور لانگ مارچ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پی ٹی آئی نے احتجاج سے پیچھے ہٹنا ہی تھا تو کال کیوں دی گئی۔

اسلام آباد میں وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے خیبرپختونخوا اختیار ولی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ 27 ستمبر کے لانگ مارچ کی تاریخ پی ٹی آئی نے خود دی تھی، تاہم بعد میں اسے 4 اکتوبر تک مؤخر کردیا گیا۔

وزیر اطلاعات نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے مارچ کے حوالے سے مؤثر تیاری نہیں کی گئی تھی۔ ان کے مطابق 27 ستمبر کا لانگ مارچ ’’کھودا پہاڑ نکلا چوہا‘‘ ثابت ہوا۔

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے پہلے کہا جاتا رہا کہ بانی پی ٹی آئی کی اجازت کے بغیر مارچ مؤخر نہیں کیا جائے گا، تاہم بعد میں صورتحال مختلف نظر آئی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اب کوئی بھی تاریخ دے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

انہوں نے پی ٹی آئی پر شدت پسندوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ پارٹی کے رہنما شدت پسندوں کی مذمت تک نہیں کرتے۔ عطا تارڑ نے کہا کہ پولیس اور سکیورٹی فورسز شدت پسندی کے خلاف کارروائیوں میں جانی نقصان اٹھا رہی ہیں اور حکومت کا مؤقف واضح ہے کہ شدت پسندی کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔

وزیر اطلاعات نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے حوالے سے کہا کہ وہ اپنی جماعت میں ساکھ کھو چکے ہیں۔

پریس کانفرنس میں عطا اللہ تارڑ نے وزیراعظم شہباز شریف کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے فلسطین اور کشمیر سمیت مسلم امہ کا مقدمہ عالمی فورم پر بھرپور انداز میں پیش کیا اور فلسطینی نمائندوں نے بھی خطاب کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور فلسطین کے حق میں اپنی آواز بلند کرتا رہے گا۔ ان کے مطابق فلسطینی طلبہ کی پاکستان میں میڈیکل تعلیم کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔

کشمیر کے حوالے سے عطا تارڑ نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ تھا، ہے اور رہے گا۔ پاکستان کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔

سندھ طاس معاہدے کے معاملے پر وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم نے بھارت کو واضح پیغام دیا ہے کہ معاہدے کی معطلی کو جنگی اقدام سمجھا جائے گا۔ ان کے مطابق پاکستان اپنے مفادات اور حقوق کے تحفظ کے لیے واضح مؤقف رکھتا ہے۔

سعودی عرب کے حوالے سے عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہے اور دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات اہم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں بھارت کو جواب دیا گیا اور پاکستان نے اپنے دفاع اور قومی سلامتی کے معاملے پر واضح مؤقف اختیار کیا۔

عطا تارڑ نے عالمی معیشت اور تیل کی قیمتوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جلد تیل کی قیمتیں نیچے آئیں گی اور عالمی معیشت میں بہتری کے اثرات آنے والے دنوں میں سامنے آئیں گے۔

دوسری جانب وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے خیبرپختونخوا اختیار ولی خان نے بھی پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے مارچ پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پارٹی نے احتجاج کے لیے کوئی تیاری نہیں کی تھی۔

اختیار ولی نے کہا کہ لانگ مارچ کے حوالے سے بہت شور مچایا گیا، لیکن عملی طور پر کچھ نہیں نکلا۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر پی ٹی آئی نے احتجاج سے پیچھے ہٹنا ہی تھا تو احتجاج کی کال کیوں دی گئی۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ تحریک انصاف کے رہنما اپنی جماعت اور کارکنوں سے جھوٹ بولتے ہیں اور کارکنوں کے سامنے احتجاج اور لانگ مارچ کے بڑے دعوے کیے جاتے ہیں، جبکہ عملی اقدامات مختلف دکھائی دیتے ہیں۔

اختیار ولی خان نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں پولیس اور سکیورٹی فورسز شدت پسندی کے خلاف کارروائیوں میں جانی نقصان اٹھا رہی ہیں اور ان کے خاندانوں کے ساتھ کھڑا ہونا سب کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا میں امن و امان کے قیام کے لیے 800 ارب روپے دیے ہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ تحریک انصاف خیبرپختونخوا پولیس کو آئی ایس ایف فورس میں تبدیل کرنا چاہتی ہے اور پولیس کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہونے دینا چاہیے۔

کوہاٹ کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے اختیار ولی نے کہا کہ اس واقعے نے پوری قوم کو یکجا کردیا ہے۔ انہوں نے تحریک انصاف سے مطالبہ کیا کہ وہ واضح کرے کہ وہ پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے یا شدت پسندی کے ساتھ۔

خیبرپختونخوا پولیس سے متعلق اختیار ولی نے دعویٰ کیا کہ صوبے میں پولیس ایک ماہ سے ہڑتال پر ہے۔ ان کے مطابق امن و امان کی صورتحال میں پولیس کا کردار اہم ہے اور فورس کو سیاسی مقاصد کے بجائے عوام کے تحفظ پر توجہ دینی چاہیے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے 27 ستمبر کے احتجاج کو آئینی اور قانونی حق قرار دیتے ہوئے مارچ جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا، تاہم بعد میں پی ٹی آئی نے لانگ مارچ 4 اکتوبر تک مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا۔

Related posts

ایف بی آر کا سرکاری گاڑیوں کے ایندھن کوٹے میں 50 فیصد کمی کا حکم، آپریشنل گاڑیاں مستثنیٰ

حسن خیل میں کان گرنے سے 3 افراد جاں بحق، ریسکیو آپریشن مکمل

سات دن میں حکومت مسائل حل کرلے، 4 اکتوبر کا لانگ مارچ اٹل ہے، سہیل آفریدی