اسلام آباد (پاک ٹوڈے): اسلام آباد ہائیکورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ (القادر ٹرسٹ) کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی سزاؤں کے خلاف اپیلیں 10 نومبر کو سماعت کے لیے مقرر کردی ہیں۔
چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل دو رکنی بینچ اپیلوں کی سماعت کرے گا۔ دونوں رہنماؤں نے احتساب عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزاؤں کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔
یہ پیش رفت عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر کی 2 نومبر کو اڈیالہ جیل میں دونوں سے ملاقات کے بعد سامنے آئی ہے۔ سلمان صفدر کے مطابق ملاقات تقریباً 40 منٹ جاری رہی، جس کے دوران انہوں نے اپنے موکلین سے مختلف قانونی معاملات پر بات چیت کی اور ان سے ہدایات حاصل کیں۔
وکیل کا کہنا تھا کہ عمران خان سے سات ماہ جبکہ بشریٰ بی بی سے 11 ماہ بعد ملاقات ممکن ہوئی۔ محدود وقت کے باعث تمام مقدمات پر تفصیلی مشاورت نہیں ہوسکی، تاہم دونوں نے اپنی صحت، جیل میں رہائش کے حالات اور قانونی معاملات سے متعلق معلومات فراہم کیں۔
واضح رہے کہ احتساب عدالت نے 17 جنوری 2025 کو 190 ملین پاؤنڈ کیس میں عمران خان کو 14 سال اور بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ عدالت نے عمران خان پر 10 لاکھ روپے اور بشریٰ بی بی پر 5 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔
اس سے قبل 5 اکتوبر کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیلوں کی سماعت کے دوران دفاعی وکیل نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ جیل میں موکلین تک رسائی نہ ملنے کے باعث ضروری قانونی ہدایات حاصل نہیں کی جاسکیں، جس پر عدالت نے سماعت ملتوی کردی تھی۔
190 ملین پاؤنڈ کیس برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کی جانب سے 2019 میں ہونے والے مالی تصفیے اور پاکستان میں اس رقم کے استعمال سے متعلق ہے۔ نیب کے استغاثہ نے الزام عائد کیا تھا کہ برطانیہ سے واپس آنے والی رقم ایک نجی ہاؤسنگ کمپنی کے مالی معاملات میں استعمال کی گئی اور اس کے بدلے القادر ٹرسٹ کے لیے زمین اور دیگر فوائد حاصل کیے گئے۔
عمران خان اور ان کی قانونی ٹیم ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ القادر ٹرسٹ کے لیے حاصل کی گئی زمین تعلیمی اور فلاحی مقاصد کے لیے تھی اور اس معاملے میں کسی قسم کا ذاتی مالی فائدہ نہیں لیا گیا۔
10 نومبر کو ہونے والی سماعت میں فریقین کے وکلا اپنے دلائل پیش کرسکیں گے، تاہم اپیلوں کی سماعت کے لیے تاریخ مقرر ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اسی روز حتمی فیصلہ یا سزاؤں کی معطلی کا حکم بھی جاری ہوجائے گا۔