بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سے عوام پریشان، آئی پی پیز کے کیپیسٹی پیمنٹس اور مہنگے توانائی نظام نے معاشی مشکلات بڑھا دیں

ریاض حسین

پاکستان میں بجلی اور گیس کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں، اشیائے ضروریہ کی مہنگائی اور گھریلو اخراجات میں اضافے نے عام شہریوں، خصوصاً کم آمدنی والے طبقے اور دیہاڑی دار مزدوروں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ صارفین اور معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں نہ صرف عوام کی قوت خرید متاثر کر رہی ہیں بلکہ غربت، غذائی عدم تحفظ، صنعتی زوال اور بے روزگاری جیسے مسائل کو بھی سنگین بنا رہی ہیں۔

خیبرپختونخوا کے شہریوں کا کہنا ہے کہ صوبہ ملک میں پن بجلی پیدا کرنے والے اہم علاقوں میں شامل ہونے کے باوجود یہاں کے صارفین کو مہنگی بجلی، مختلف سرچارجز، ٹیکسوں اور بھاری بلوں کا سامنا ہے۔

مقامی شہری اور بجلی صارف بخت محمد نے کہا کہ بجلی کے فی یونٹ نرخوں میں 2 سے 4 روپے تک اضافے اور گیس کی قیمتوں میں اضافے نے عام خاندانوں کے لیے گھریلو اخراجات پورے کرنا انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔

ان کے مطابق دیہاڑی دار مزدوروں اور کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے صورتحال زیادہ پریشان کن ہے، کیونکہ ان کی محدود آمدنی پہلے ہی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہے۔

بخت محمد نے کہا کہ بجلی اور گیس کے اخراجات عام آدمی کے لیے ایک بڑا مالی بوجھ بن چکے ہیں۔ جو خاندان پہلے ہی احتیاط سے اپنے اخراجات چلا رہے ہیں، انہیں بھی بجلی کے بل ادا کرنے اور روزمرہ استعمال کی اشیا خریدنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ خیبرپختونخوا جیسے پن بجلی پیدا کرنے والے صوبے کے عوام کو بھی بجلی کے بھاری بل کیوں ادا کرنا پڑ رہے ہیں؟ حکومت کو ایسا منصفانہ نظام متعارف کرانا چاہیے جس کے تحت مقامی سطح پر پیدا ہونے والی پن بجلی کے فوائد صوبے کے صارفین تک بھی پہنچ سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بجلی، گیس اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے غربت کم ہونے کے بجائے غریب خاندان مزید معاشی مشکلات کا شکار ہو رہے ہیں۔

 بجلی کے بلوں میں ٹیکسز، سرچارجز اور لائن لاسز کا بوجھ

معاشی ماہر غلام دستگیر کا کہنا ہے کہ بجلی کا بحران صرف فی یونٹ قیمت میں اضافے تک محدود نہیں بلکہ صارفین کو اصل بجلی کی قیمت کے علاوہ مختلف ٹیکسز، سرچارجز، ایڈجسٹمنٹس اور دیگر مدات میں بھی بھاری رقم ادا کرنا پڑتی ہے۔

انہوں نے موجودہ بلنگ نظام کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ باقاعدگی سے بجلی کے بل ادا کرنے والے صارفین کو بھی بجلی چوری، عدم ادائیگی اور تقسیم کے نظام میں ہونے والے نقصانات کا مالی بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔

غلام دستگیر کے مطابق، بجلی کے بل عام صارفین کے لیے ناقابل برداشت ہوتے جا رہے ہیں۔ اصل بجلی کی قیمت کے علاوہ مختلف ٹیکسز، سرچارجز اور لائن لاسز کی لاگت بھی صارفین سے وصول کی جاتی ہے۔ یہ ایک غیر منصفانہ طریقہ کار ہے جس میں ایمانداری سے بل ادا کرنے والے شہریوں کو بھی بجلی چوری اور بل ادا نہ کرنے والوں کی قیمت چکانا پڑتی ہے۔

انہوں نے بجلی کی تقسیم کے نظام میں شفافیت اور احتساب بہتر بنانے کے لیے ٹرانسفارمر لیول میٹرنگ متعارف کرانے کی تجویز دی۔

ان کے مطابق اس نظام کے تحت ہر ٹرانسفارمر کے ذریعے فراہم کی جانے والی بجلی اور متعلقہ علاقے میں صارفین سے وصول ہونے والے بلوں کا موازنہ کیا جا سکے گا، جس سے زیادہ لائن لاسز والے علاقوں کی نشاندہی اور بجلی چوری پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ صرف بلنگ کا نظام بہتر بنانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ مہنگی بجلی کی پیداوار، آئی پی پیز کے معاہدوں، تقسیم کے نظام میں نقصانات اور اضافی ٹیکسوں جیسے بنیادی مسائل پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔

 آئی پی پیز کے کیپیسٹی پیمنٹس کا عوام پر بوجھ

پاکستان کے توانائی شعبے میں آزاد بجلی پیدا کرنے والے اداروں، یعنی انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے ساتھ کیے گئے معاہدے بھی مہنگی بجلی کی اہم وجوہات میں شمار کیے جاتے ہیں۔

ان معاہدوں کے تحت بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو عموماً دو بنیادی مدات میں ادائیگیاں کی جاتی ہیں۔ پہلی مد بجلی کی اصل پیداوار کے عوض ادائیگی ہے، جبکہ دوسری مد کیپیسٹی پیمنٹس کہلاتی ہے، جو بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس کی دستیابی اور پیداواری صلاحیت برقرار رکھنے کے عوض ادا کی جاتی ہے۔

اس نظام پر تنقید کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ بجلی کی طلب کم ہونے یا بعض پلانٹس مکمل صلاحیت کے مطابق بجلی پیدا نہ کرنے کے باوجود بھی ان کے معاہدوں کے تحت مقررہ اخراجات ادا کرنا پڑ سکتے ہیں۔

قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران بجلی پیدا کرنے والے اداروں کو کیپیسٹی پیمنٹس کی مد میں تقریباً ایک ہزار 711 ارب روپے ادا کیے گئے، جبکہ گزشتہ مالی سال میں یہ رقم ایک ہزار 672 ارب روپے تھی۔

آسان الفاظ میں ایک سال کے دوران اس مد میں 1.7 ہزار ارب روپے سے زیادہ ادائیگیاں کی گئیں۔

ماہرین کے مطابق یہ تمام رقم کمپنیوں کا منافع نہیں ہوتی بلکہ اس میں قرضوں کی ادائیگی، مقررہ آپریشنل اخراجات اور معاہدوں کے تحت دیگر مالی ذمہ داریاں بھی شامل ہوتی ہیں۔ تاہم یہ رقم پاکستان کے بجلی خریدنے کے مجموعی اخراجات کا ایک بڑا حصہ ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان بھی اپنی رپورٹس میں طویل المدتی بجلی خریداری کے معاہدوں، ٹیک اینڈ پے (Take-or-Pay) شرائط اور ڈالر سے منسلک معاہدوں کو توانائی شعبے کے مالی دباؤ کی اہم وجوہات میں شمار کر چکا ہے۔

پاکستان کا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ملک میں بجلی پیدا کرنے کی مجموعی صلاحیت زیادہ ہے، لیکن طلب اور کھپت اس صلاحیت کو مکمل طور پر استعمال کرنے کے لیے کافی نہیں۔

نتیجتاً بجلی پیدا کرنے والے نظام کے مقررہ اخراجات کا بوجھ صارفین پر منتقل ہوتا ہے اور فی یونٹ بجلی مہنگی پڑتی ہے۔

2027 میں بجلی مزید مہنگی ہونے کا خدشہ

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی جانب سے منعقدہ عوامی سماعت میں پاور ڈویژن کی ٹیم نے جنوری سے دسمبر 2027 کے لیے بجلی کی خریداری کی قیمت (پاور پرچیز پرائس) سے متعلق چھ مختلف منظرنامے پیش کیے، جن میں تمام صورتوں میں موجودہ قیمت سے اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا۔

سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے مطابق موجودہ پاور پرچیز پرائس 25 روپے 32 پیسے فی یونٹ ہے، جبکہ بنیادی منظرنامے کے تحت 2027 میں یہ قیمت بڑھ کر 27 روپے 31 پیسے فی یونٹ ہونے کا امکان ہے، جو ایک روپے 99 پیسے اضافہ بنتا ہے۔

بہترین تصور کیے جانے والے منظرنامے میں بھی قیمت 25 روپے 88 پیسے فی یونٹ رہنے کی پیش گوئی کی گئی، جبکہ بدترین صورتوں میں یہ 28 روپے 84 پیسے اور 29 روپے 26 پیسے فی یونٹ تک پہنچ سکتی ہے۔

دیگر دو منظرناموں میں بجلی کی طلب میں تبدیلی اور ایل این جی و قدرتی گیس کی زیادہ دستیابی کو مدنظر رکھتے ہوئے بالترتیب 2 روپے 25 پیسے اور ایک روپے 12 پیسے فی یونٹ اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا۔

واضح رہے کہ یہ بجلی کی خریداری کی متوقع قیمتیں ہیں، صارفین کے لیے حتمی بجلی ٹیرف نہیں۔ اصل بل میں تقسیم کے اخراجات، ٹیکسز، سرچارجز اور دیگر ایڈجسٹمنٹس بھی شامل ہوتی ہیں۔

عوامی سماعت کے دوران صنعتی صارفین نے حکومت کی جانب سے اضافی ادارے قائم کرنے اور بھاری تنخواہوں پر ملازمین بھرتی کرنے پر بھی تنقید کی۔ ان کا مؤقف تھا کہ انتظامی اخراجات اور ادارہ جاتی نااہلی کا بوجھ بھی بالآخر بجلی صارفین کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔

ایل پی جی کی قلت اور قیمتوں میں ہوشربا اضافہ

بجلی اور قدرتی گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے ساتھ ایل پی جی استعمال کرنے والے صارفین بھی شدید مشکلات کا شکار ہیں، خصوصاً ایسے علاقوں میں جہاں قدرتی گیس کی سہولت دستیاب نہیں۔

وفاقی وزیر ملک نے اعتراف کیا ہے کہ موسم سرما شروع ہونے سے پہلے ہی ایل پی جی کی قلت پیدا ہو چکی تھی، جس کی ایک وجہ پاکستان کی مغربی سرحدوں پر تجارتی اور رسدی رکاوٹیں بھی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے ایل پی جی کی فراہمی بڑھانے اور مارکیٹ میں مسابقت پیدا کرنے کے لیے ایک جامع پالیسی کی منظوری دی ہے، جس کے تحت چار سرکاری ادارے حکومت سے حکومت (G2G) اور کاروبار سے کاروبار (B2B) کے انتظامات کے ذریعے ایل پی جی خرید سکیں گے۔

وزیر کے مطابق بعض علاقوں میں منافع خور عناصر ایل پی جی 700 سے 800 روپے فی کلو فروخت کر رہے ہیں، حالانکہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے نومبر کے لیے اس کی زیادہ سے زیادہ قیمت 295 روپے فی کلو مقرر کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی کنٹریکٹ پرائس اور موجودہ درآمدی اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے سرکاری اداروں کے ذریعے سپلائی شروع ہونے کے بعد مقامی مارکیٹ میں قیمت 450 سے 500 روپے فی کلو تک آ سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نجی شعبے کے درآمد کنندگان کو بھی کم قیمت پر ایل پی جی فراہم کرنے کی اجازت ہوگی تاکہ مارکیٹ میں مسابقت برقرار رہے۔

تاہم مقررہ سرکاری قیمت اور مارکیٹ میں وصول کی جانے والی قیمت کے درمیان بڑے فرق نے قیمتوں پر مؤثر نگرانی اور حکومتی عملدرآمد کے نظام پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

پاکستان میں بھوک اور غذائی قلت کی صورتحال تشویشناک

توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات ایسے وقت میں سامنے آ رہے ہیں جب پاکستان پہلے ہی غربت، غذائی قلت اور عوام کی خوراک خریدنے کی محدود صلاحیت جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔

گلوبل ہنگر انڈیکس 2026 کے مطابق پاکستان 122 ممالک میں 106ویں نمبر پر ہے، جبکہ ملک کا اسکور 25.5 ہے، جو بھوک کی سنگین صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق:

 پاکستان کی 16.1 فیصد آبادی غذائی قلت کا شکار ہے۔

 پانچ سال سے کم عمر 33.6 فیصد بچے عمر کے لحاظ سے مطلوبہ جسمانی نشوونما حاصل نہیں کر پاتے۔

پانچ سال سے کم عمر 9.8 فیصد بچے شدید غذائی کمی اور کم وزن کا شکار ہیں۔

 پانچ سال سے کم عمر بچوں کی شرح اموات 5.6 فیصد ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان میں مسئلہ صرف خوراک کی دستیابی کا نہیں بلکہ عام خاندانوں کی غذائیت سے بھرپور خوراک خریدنے کی استطاعت کا بھی ہے۔

جب ایک خاندان اپنی محدود آمدنی کا بڑا حصہ بجلی، گیس، ٹرانسپورٹ اور رہائش کے اخراجات پر خرچ کرتا ہے تو اس کے پاس خوراک، علاج اور بچوں کی تعلیم کے لیے رقم کم رہ جاتی ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خاندانوں کو بجلی کے بل ادا کرنے کے لیے خوراک کے اخراجات کم کرنا پڑیں تو اس کے اثرات بچوں کی صحت، تعلیم اور مستقبل کی جسمانی و ذہنی نشوونما پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

مہنگی بجلی سے صنعتیں متاثر، بے روزگاری میں اضافے کا خدشہ

معاشی ماہر غلام دستگیر نے کہا کہ مہنگی بجلی کے اثرات صرف گھریلو صارفین تک محدود نہیں بلکہ پاکستان کی صنعتیں اور کاروباری شعبے بھی اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔

ان کے مطابق بجلی کی بلند قیمتوں، ایندھن کے اخراجات، ٹیکسوں اور دیگر پیداواری لاگت میں اضافے کے باعث فیکٹریوں اور صنعتی یونٹس کے لیے کاروبار جاری رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مہنگی بجلی صنعتی شعبے کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ جب فیکٹریوں کے لیے پیداواری اخراجات برداشت کرنا ممکن نہیں رہتا تو وہ اپنی سرگرمیاں محدود یا بند کر دیتی ہیں، جس کے نتیجے میں مزدور بے روزگار ہو جاتے ہیں اور ان کے خاندانوں کی آمدنی متاثر ہوتی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ بے روزگاری میں اضافے سے غربت اور معاشی عدم تحفظ مزید بڑھ سکتا ہے، جبکہ اس کے نتیجے میں جرائم اور دیگر سماجی مسائل میں اضافے کا خدشہ بھی موجود ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو بجلی کو صرف آمدنی کا ذریعہ سمجھنے کے بجائے معاشی سرگرمیوں، روزگار اور صنعتی ترقی کے لیے بنیادی ضرورت کے طور پر دیکھنا چاہیے۔

انہوں نے بجلی کی پیداواری لاگت کم کرنے، تقسیم کے نظام میں بہتری، غیر ضروری چارجز پر قابو پانے اور گھریلو و صنعتی صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے جامع اصلاحات پر زور دیا۔

توانائی بحران کے حل کے لیے بنیادی اصلاحات ضروری

صارفین اور معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان کا توانائی بحران صرف بجلی کے نرخوں میں عارضی کمی یا سبسڈی دینے سے حل نہیں ہو سکتا بلکہ اس کے لیے نظام کی بنیادی خامیوں کو دور کرنا ہوگا۔

ان کے مطابق مہنگے بجلی خریداری معاہدوں، آئی پی پیز کے کیپیسٹی پیمنٹس، ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن لاسز، بجلی چوری، بلوں کی عدم وصولی اور اضافی ٹیکسوں جیسے مسائل پر سنجیدہ اقدامات ضروری ہیں۔

ماہرین نے ایل پی جی کی قیمتوں کی مؤثر نگرانی، مقامی توانائی وسائل کے بہتر استعمال اور پن بجلی پیدا کرنے والے صوبوں کے عوام کو مناسب نرخوں پر بجلی فراہم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔

عام شہریوں کے لیے یہ مسئلہ اب محض سہولت کا نہیں بلکہ بنیادی ضروریات پوری کرنے کا بن چکا ہے۔ مہنگائی، بچوں کی تعلیم، علاج معالجے اور بے روزگاری سے پہلے ہی پریشان خاندان بجلی اور گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا مزید بوجھ برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔

ماہرین کے مطابق اگر حکومت نے توانائی کے شعبے میں مؤثر اصلاحات نہ کیں، بجلی کے نرخوں اور اضافی اخراجات پر قابو نہ پایا اور صارفین کے ساتھ منصفانہ طرز عمل اختیار نہ کیا تو اس کے نتیجے میں غربت، غذائی عدم تحفظ، صنعتی تنزلی اور بے روزگاری میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

Related posts

سعودی عرب نے پاکستان کا 3 ارب ڈالر کا قرض رول اوور کردیا، وزیر خزانہ کی تصدیق

پاکستان پوسٹ میں بھرتیوں کی تحقیقات، اسعد محمود کو نیب کا نوٹس جاری

190 ملین پاؤنڈ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کی اپیلوں پر سماعت 10 نومبر کو ہوگی