رپورٹ: ریاض حسین
پشاور: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود میں 0.50 فیصد پوائنٹس کا اضافہ کرتے ہوئے اسے 12 فیصد کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں کاروباری اداروں کے لیے قرضوں کی لاگت بڑھنے اور صنعتی ترقی متاثر ہونے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ مرکزی بینک کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، توانائی کی بلند قیمتوں اور گندم کی مقامی رسد میں پیدا ہونے والے مسائل نے مہنگائی کے امکانات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کے 10 میں سے 9 ارکان نے شرح سود میں اضافے کی حمایت کی۔ مرکزی بینک نے مہنگائی کو 5 سے 7 فیصد کے ہدف تک لانے اور قیمتوں میں مزید اضافے کے خدشات کو محدود کرنے کے لیے یہ فیصلہ کیا ہے۔
تاہم ماہرِ معیشت طاہر امین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سخت مانیٹری اور فسکل پالیسیوں کے باوجود مہنگائی پر مؤثر قابو نہیں پایا جا سکا، جبکہ بلند شرح سود نے صنعت، سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔
طاہر امین کے مطابق بلند شرح سود کے باعث قرضوں کی لاگت بڑھ جاتی ہے، جس سے صنعتوں کے لیے پیداوار میں اضافہ، نئی ٹیکنالوجی کا استعمال اور کاروبار کو وسعت دینا مشکل ہو جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بجلی، گیس، پانی اور مزدوری کے اخراجات میں اضافے نے بھی پاکستانی صنعت کی پیداواری لاگت بڑھا دی ہے، جس کے باعث مقامی مصنوعات عالمی منڈی میں مسابقت کے قابل نہیں رہتیں۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان کی برآمدات طویل عرصے سے تقریباً 30 ارب ڈالر سالانہ تک محدود ہیں۔ ان کے مطابق مہنگی فنانسنگ اور پیداواری اخراجات میں اضافے سے برآمدات بڑھانے اور عالمی منڈیوں میں دیگر ممالک کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔
طاہر امین کا کہنا ہے کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار بالخصوص مہنگے قرضوں سے متاثر ہوتے ہیں، کیونکہ انہیں پیداوار بڑھانے، مشینری تبدیل کرنے اور جدید ٹیکنالوجی متعارف کرانے کے لیے بینکوں سے مالی معاونت درکار ہوتی ہے۔ جب قرض مہنگے ہوں اور توانائی سمیت دیگر اخراجات بھی زیادہ ہوں تو سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔
ان کے مطابق اس صورتِ حال کے اثرات صرف صنعت تک محدود نہیں رہتے بلکہ تعمیرات، گاڑیوں اور ٹریکٹروں کی خریداری سمیت دیگر شعبے بھی متاثر ہوتے ہیں۔ کاروباری سرگرمیاں سست پڑنے سے روزگار کے مواقع کم ہو سکتے ہیں، جبکہ بے روزگاری اور غربت میں اضافے کے خدشات بھی بڑھ سکتے ہیں۔
مہنگائی پر قابو پانے کی پالیسی پر سوالات
طاہر امین کے مطابق پاکستان میں بلند شرح سود کے ذریعے مہنگائی پر قابو پانے کی حکمتِ عملی اب تک مطلوبہ نتائج نہیں دے سکی۔ ان کا مؤقف ہے کہ جب مہنگائی کی بڑی وجوہات میں توانائی کی قیمتوں اور رسد کے مسائل جیسے عوامل شامل ہوں تو صرف شرح سود بڑھانا ان مسائل کا مکمل حل نہیں ہو سکتا۔
ان کے مطابق حکومت کو ایسی پالیسیوں پر توجہ دینی چاہیے جو پیداواری لاگت کم کرنے، صنعتوں کو سستی فنانسنگ فراہم کرنے، برآمدات بڑھانے اور نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی میں مدد دیں۔
دوسری جانب اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور دیگر رسدی مسائل کے باعث مہنگائی کے خدشات بڑھ گئے ہیں، اس لیے شرح سود میں اضافہ ضروری تھا۔ مرکزی بینک کے مطابق ستمبر 2026 میں سالانہ مہنگائی کی شرح 10.3 فیصد رہی، جو اس کے 5 سے 7 فیصد کے درمیانی مدت کے ہدف سے زیادہ ہے۔
زرمبادلہ ذخائر اور معاشی استحکام
اسٹیٹ بینک کے مطابق ملک کے زرمبادلہ ذخائر تقریباً 21.5 ارب ڈالر پر مستحکم رہے ہیں، جو تقریباً تین ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔ تاہم بیرونی مالیاتی خطرات، عالمی اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور بین الاقوامی مالی حالات میں سختی بدستور معیشت کے لیے چیلنج ہیں۔
پاکستان کو ایک طرف روپے کی قدر اور بیرونی مالی استحکام برقرار رکھنے کی ضرورت ہے، تو دوسری جانب صنعتوں کی ترقی، برآمدات میں اضافے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی بھی ضروری ہے۔
معاشی پالیسی کے حوالے سے بنیادی سوال یہی ہے کہ مہنگائی پر قابو پانے کے ساتھ ایسی حکمتِ عملی کیسے اختیار کی جائے جو صنعتوں پر مالی دباؤ کم کرے، نجی سرمایہ کاری کو فروغ دے اور ملکی معیشت کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کر سکے۔