اسلام آباد (پاک ٹوڈے): پہلے سے قرضوں کے بوجھ تلے دبے پاکستان نے امریکہ سے 10 ارب ڈالر کا نیا قرضہ مانگنے کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔ وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ امریکی محکمہ خزانہ کو ‘ایکسچینج اسٹیبلائزیشن فیسیلٹی’ کے تحت یہ بھاری درخواست بھیجی گئی ہے، جس پر ستمبر تک فیصلہ متوقع ہے۔
تاہم، نئے غیر ملکی قرضوں پر تکیہ کرنے کی اس پالیسی نے معاشی ماہرین اور عوامی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ ناقدین کے مطابق بنیادی معاشی اصلاحات اور پیداوری صلاحیت بڑھانے کے بجائے بار بار بیرونی کشکول پھیلا کر عارضی سہارے تلاش کرنا ملکی معیشت کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہو رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پچھلے قرضوں کی ادائیگی میں مشکلات اور 10 سالہ مدتِ توسیع کی استدعا کے باوجود مزید 10 ارب ڈالر کا نیا بوجھ اٹھانا ملک کو مزید معاشی دلدل میں دھکیل سکتا ہے۔ اس قسم کی کڑی مالی شرائط پر مبنی بیرونی مراعات سے جہاں ملکی خودمختاری متاثر ہونے کا خدشہ ہے، وہیں عوامی سطح پر مہنگائی کا نیا طوفان آنے کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔
