اسلام آباد (پاک ٹوڈے): وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا مشاورت کا پرانا عذر ختم ہوچکا ہے، وفاقی حکومت نے تجاویز پیش کیں لیکن پی ٹی آئی کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
سلمان اکرم راجہ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کے سیاسی طور پر کمزور ہونے کے بعد اب مشترکہ لائحہ عمل کی بات کی جا رہی ہے، جبکہ ان کے مطابق صوبائی حکومت کی پالیسی سے امن و امان کی صورتحال متاثر ہوئی ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے پی ٹی آئی پر الزام عائد کیا کہ سیکیورٹی صورتحال کے معاملے پر اس کا بیانیہ ریاستی اقدامات کے خلاف ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ خیبرپختونخوا حکومت وفاقی اپیکس کمیٹی کے اجلاسوں میں شرکت کیوں نہیں کرتی اور اپنی اپیکس کمیٹی کے اجلاس کیوں نہیں بلاتی۔
عطا اللہ تارڑ نے مزید سوال کیا کہ خیبرپختونخوا کابینہ پاکستان میں جاری دہشتگردی کے واقعات کی مذمت کیوں نہیں کرتی اور نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کیوں نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی قیادت شہدا کے جنازوں میں شرکت اور سیکیورٹی فورسز سے اظہار یکجہتی کے لیے چوکیوں کے دورے کیوں نہیں کرتی۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ پی ٹی آئی رہنما پاک افغان سرحد پر سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے ساتھ کتنی مرتبہ شانہ بشانہ کھڑے ہوئے ہیں۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ دباؤ میں آکر مشاورت اور مشترکہ اقدامات کی بات کرنا پی ٹی آئی کی پرانی حکمت عملی ہے۔ ان کے مطابق نیشنل ایکشن پلان پر مؤثر عمل نہ ہونے کے باعث خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال خراب ہوئی اور صوبے کی معیشت متاثر ہوئی، جس کی ذمہ داری پی ٹی آئی پر عائد ہوتی ہے۔
انہوں نے اجتماعی مشاورت اور جرگوں کے بیانیے کو تاخیری حربے قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاست اب پرانی بیان بازی کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔
دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجہ نے کہا تھا کہ حکومت چاہتی تھی کہ خیبرپختونخوا حکومت وفاق اور اس کے اداروں کی جانب سے صوبے میں جاری تمام کارروائیوں اور ایمرجنسی کے نفاذ کی حمایت کرے۔
سلمان اکرم راجہ کے مطابق وفاقی حکومت خیبرپختونخوا حکومت کے پیش کردہ لائحہ عمل سے متفق نہیں تھی، جس کے باعث مذاکرات ناکام ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے ہمیشہ اندھی کارروائیوں کی مخالفت کی ہے اور حکومت مشاورت و اتفاق رائے کا راستہ اپنانے پر آمادہ نہیں تھی۔
