اسلام آباد (پاک ٹوڈے): پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر ہمایوں مہمند نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کا فیصلہ بہت پہلے کر لیا گیا تھا، جبکہ ان کے بقول دہشت گردی کو جواز بنا کر پی ٹی آئی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
سینیٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہمایوں مہمند نے بانی پی ٹی آئی کے علاج کا مطالبہ کیا اور کہا کہ پانچ ماہ گزرنے کے باوجود ان کا بلڈ پریشر تک درست نہیں کیا جا سکا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ملک میں بلڈ پریشر کے علاج کے لیے بھی کوئی ڈاکٹر دستیاب نہیں؟
پی ٹی آئی سینیٹر نے کہا کہ حکومت پر اعتماد کا فقدان ہے، جبکہ مراد سعید سے مشاورت اور طالبان سے متعلق پالیسی پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
ہمایوں مہمند نے فیصل واوڈا کے سابقہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کئی ماہ پہلے ہی گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی بات کی تھی۔ ان کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ فیصلہ پہلے ہی کیا جا چکا تھا۔
انہوں نے ماضی کے سیاسی اور حکومتی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ اگر وفاقی حکومت کے سابقہ فیصلوں پر بحث ہو سکتی ہے تو موجودہ فیصلوں پر سوال کیوں نہیں اٹھائے جا سکتے؟