کییف/ماسکو (پاک ٹوڈے): روس اور یوکرین نے ایک دوسرے کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں، جہاں روسی حملوں میں کییف سمیت مختلف علاقوں میں کم از کم 16 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جبکہ یوکرینی ڈرون نے روسی سرحد کے اندر 1600 کلومیٹر دور گھس کر ایندھن کے ذخائر کو نشانہ بنایا ہے۔
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی افواج نے روس کے شہر پرم میں واقع ایک آئل ریفائنری پر حملہ کیا ہے۔ زیلنسکی نے امریکہ اور مغربی اتحادیوں سے دفاعی پیٹریٹ میزائل فراہم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرین مفت تحائف کے بجائے ہتھیار خریدنے کو بھی تیار ہے۔ دوسری جانب روسی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ ان کی پیش قدمی کے دوران مشرقی ڈونیٹسک کے علاقے میں ‘زیلین’ نامی گاؤں کا کنٹرول حاصل کر لیا گیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے دونوں ممالک کی جانب سے شہری آبادی اور انفراسٹرکچر پر بڑھتے ہوئے حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر کشیدگی کم کرنے اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی پاسداری کی ہدایت کی ہے۔