کراچی (پاک ٹوڈے): کراچی کے علاقے گلشن حدید میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد کی لاشیں ملنے کے واقعے نے غربت، بے روزگاری اور معاشرتی بے حسی جیسے سنگین مسائل کو اجاگر کر دیا ہے۔ واقعے کے بعد گھر کے سربراہ شاہزیب سے منسوب ایک تحریری خط سامنے آیا ہے، جس میں خاندان کو درپیش مالی مشکلات اور قریبی لوگوں کے رویوں سے متعلق دردناک تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔
پولیس کے مطابق بن قاسم کے علاقے میں واقع ایک فلیٹ کا دروازہ اندر سے بند ہونے پر اسے کھولا گیا تو گھر کے افراد بستر اور صوفوں پر مردہ حالت میں پائے گئے۔ واقعے میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد کی موت ہوئی، جس کے بعد پولیس نے شواہد اکٹھے کرکے تحقیقات شروع کر دیں۔
سامنے آنے والے خط میں شاہزیب نے مبینہ طور پر لکھا کہ والد کے انتقال کے بعد خاندان نے زندگی کو آگے بڑھانے کی کوشش کی، تاہم روزگار نہ ہونے کے باعث مالی مشکلات بڑھتی گئیں۔ خط کے مطابق گزشتہ چھ ماہ کے دوران حالات انتہائی خراب ہو گئے تھے اور گھر کے بنیادی اخراجات پورے کرنا بھی مشکل ہو چکا تھا۔
تحریر میں بچیوں کے اخراجات کے لیے 26 ہزار روپے، گیس سلنڈر کے لیے 35 ہزار روپے اور راشن کی عدم دستیابی کا ذکر کیا گیا ہے۔ خط میں یہ بھی کہا گیا کہ گیس بھروانے اور راشن خریدنے کے لیے بلا سود 2 ہزار 700 روپے مانگے گئے، لیکن مدد ملنے کے بجائے مبینہ طور پر تضحیک کا سامنا کرنا پڑا۔
خط میں رشتہ داروں اور قریبی افراد کے رویوں پر شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ مشکل وقت میں خاندان کا ساتھ دینے کے بجائے ان کی مجبوریوں کا مذاق اڑایا گیا۔ تحریر میں والد کی بیماری کے دوران علاج کے لیے مدد نہ ملنے اور مسلسل بے روزگاری کے باعث پیدا ہونے والی پریشانیوں کا بھی ذکر ہے۔
خط کے آخری حصے میں ملکی نظام اور قانون سے متعلق مایوسی بیان کی گئی ہے۔ تحریر میں غریب افراد کی مشکلات، معاشرتی بے حسی اور ضرورت مندوں کی مدد نہ کرنے کے رویے پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس امر کی جانب توجہ دلاتا ہے کہ بے روزگاری، غربت اور مالی مشکلات سے دوچار خاندانوں کو بروقت مدد فراہم کرنا کتنا اہم ہے۔ تاہم خط میں بیان کیے گئے الزامات اور واقعات کی آزادانہ تصدیق تحقیقات کے بعد ہی ممکن ہوگی۔