کابل اور نئی دہلی کے درمیان سفارتی روابط میں بہتری؛ بھارت کا انسانی ہمدردی اور ترقیاتی تعاون پر زور

نئی دہلی (پاک ٹوڈے): کابل اور نئی دہلی کے درمیان گزشتہ ایک سال کے دوران سفارتی رابطوں اور اعلیٰ سطحی دوروں کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں۔

بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ بھارت اور افغانستان کے مابین تعلقات کی ایک طویل تاریخ ہے، تاہم حالیہ ایک سال کے دوران ان روابط میں تیزی سے بہتری دیکھی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس عرصے میں افغان وزارتوں کے متعدد وفود نے بھارت کا دورہ کیا ہے، جبکہ نئی دہلی بھی مسلسل کابل کے ساتھ روابط میں ہے۔

بھارتی ترجمان کے مطابق، بھارت نے کابل میں اپنے موجودہ ٹیکنیکل مشن کو سفارتخانے کی سطح تک اپ گریڈ کر دیا ہے اور وہاں ایک ناظمِ الامور (Chargé d’Affaires) تعینات کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارت کا بنیادی فوکس افغانستان میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد اور ترقیاتی منصوبوں میں تعاون پر مرکوز ہے۔

سیاسی و اقتصادی امور کے ماہرین کا خیال ہے کہ صحت، تجارت اور معاشی ترقی کے شعبوں میں یہ تعاون افغانستان کے مستقبل کے لیے انتہائی سود مند ثابت ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ وزیر خارجہ امیر خان متقی کے دورہ ہند کے بعد سے صنعت، تجارت، صحت اور زراعت کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے متعدد افغان حکام نے بھارت کا دورہ کیا ہے جس سے دوطرفہ تعلقات میں مزید بہتری آئی ہے۔

Related posts

روس کی دعوت پر افغان وزارتِ دفاع کا وفد ’سینٹر 2026‘ فوجی مشق میں شریک

افغان وزیر خارجہ کی اقوام متحدہ کی اعلیٰ عہدیدار سے ملاقات، افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال

ایران کی حوثیوں سے سیاسی مذاکرات کی تجویز، مکہ دفاعی معاہدے کے ارکان کا ہنگامی اجلاس طلب