پشاور (پاک ٹوڈے): خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں ڈی ایس پی کو مبینہ طور پر حبس بے جا میں رکھنے اور بعد ازاں سامنے آنے والی مبینہ آڈیو گفتگو کا معاملہ خیبرپختونخوا اسمبلی تک پہنچ گیا۔
عوامی نیشنل پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی نثار خان نے اسمبلی اجلاس میں معاملہ اٹھاتے ہوئے اسے متعلقہ کمیٹی کے سپرد کرنے اور آئی جی خیبرپختونخوا کو طلب کرنے کا مطالبہ کیا۔
نثار خان نے اظہار خیال کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ محکمہ داخلہ ایوان کو آگاہ کرے کہ کیا قانون کے تحت ڈی پی او کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی ڈی ایس پی کو مبینہ طور پر حبس بے جا میں رکھ سکے؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ معاملے کی مکمل تحقیقات کی جائیں تاکہ حقائق سامنے آسکیں۔
ذرائع کے مطابق ڈی ایس پی کی مبینہ بازیابی کے بعد بعض آڈیو پیغامات بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہے ہیں، جن کے حوالے سے شہریوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ آڈیو گفتگو کی بھی باقاعدہ تحقیقات کی جائیں اور اگر کسی افسر کی جانب سے اختیارات سے تجاوز ثابت ہو تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ معاملہ سینٹرل پولیس آفس کے اعلیٰ افسران کے نوٹس میں بھی آچکا ہے، تاہم تاحال اس حوالے سے کسی واضح اور حتمی کارروائی کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔
رکن اسمبلی نثار خان نے مطالبہ کیا کہ معاملے کو متعلقہ کمیٹی کے سپرد کرکے آئی جی خیبرپختونخوا کو طلب کیا جائے اور ایوان کو آگاہ کیا جائے کہ ڈی ایس پی کو مبینہ حبس بے جا میں رکھنے کی قانونی حیثیت کیا ہے اور اس معاملے میں کون ذمہ دار ہے۔