پشاور (پاک ٹوڈے): ڈیانا کیس کے مرکزی ملزم احمد تنویر کو تھانہ اچھرہ میں درج مقدمے کے سلسلے میں شناخت پریڈ کے لیے 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔ عدالت نے ملزم کو شناخت پریڈ کے لیے جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجنے کا حکم دیا۔ احمد تنویر کو گزشتہ روز عدالت کے باہر سے گرفتار کیا گیا تھا۔
احمد تنویر بحریہ ٹاؤن کا رہائشی ہے اور اس کا تعلق ایک بااثر خاندان سے بتایا جاتا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے بھی گزشتہ روز ملزم کی گرفتاری اور ضمانت سے متعلق سوشل میڈیا پر بیان جاری کیا تھا۔
کیس کا پس منظر
یہ مقدمہ ستمبر 2025 کے اواخر میں سامنے آیا تھا۔ 22 سالہ آذربائیجانی خاتون ڈیانا رومک قزی باغیوا کاروبار کے سلسلے میں پاکستان آئی تھیں۔ تھانہ ڈیفنس سی میں درج ایف آئی آر کے مطابق ڈیانا نے الزام لگایا تھا کہ دو خواتین مسکان اور نمرا اور تین مردوں محسن، احمد تنویر اور علی زین نے انہیں ڈیفنس کے ایک فلیٹ میں نشہ آور چیز پلا کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا، ان کا موبائل فون اور سامان چھینا اور انہیں ایئرپورٹ کے قریب چھوڑ دیا۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے ڈی این اے اور دیگر فرانزک شواہد اکٹھے کیے تھے، جبکہ محسن اور زین سمیت متعدد ملزمان کو گرفتار کیا گیا تھا۔
گزشتہ روز ڈیانا کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں انہوں نے احمد تنویر کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے نہ ان کی بے حرمتی کی اور نہ ہی ان کا موبائل فون لیا۔ ان کے مطابق ان کا ابتدائی بیان دباؤ میں لیا گیا تھا۔ ڈیانا نے آذربائیجان کے سفارت خانے کے ذریعے بھی دستاویزات میں احمد تنویر کو بے گناہ قرار دینے اور محسن و عزیر کو معاف کرنے کا مؤقف اختیار کیا، جبکہ مقدمہ مزید نہ چلانے کی خواہش ظاہر کی۔
ویڈیو میں ڈیانا نے یہ بھی کہا کہ وہ عدالت میں خود بیان دینا چاہتی تھیں، تاہم انہیں جان کو خطرہ ہونے کا بتایا گیا اور 4 اکتوبر کو تین پولیس افسران کے ہمراہ پی آئی اے کی پرواز سے باکو واپس بھیج دیا گیا۔
دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ ڈیانا کا بیان ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ ہو چکا ہے، جبکہ دو گرفتار ملزمان نے بھی احمد تنویر کے ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ پولیس کے مطابق سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو تفتیش پر اثر انداز ہونے کی کوشش ہے۔
احمد تنویر کی عبوری ضمانت میں لاہور سیشن کورٹ نے 27 اکتوبر تک توسیع کی تھی، جبکہ سندھ ہائی کورٹ سے بھی حفاظتی ضمانت حاصل ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اس کے باوجود کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ نے انہیں عدالت کے باہر سے گرفتار کیا، جس پر عدالت میں ہنگامہ آرائی بھی ہوئی تھی۔ اب انہیں تھانہ اچھرہ کے ایک اور مقدمے میں شناخت پریڈ کے لیے جیل بھیجا گیا ہے۔