ریاض حسین
اسلام آباد: پاکستان اور چین کے درمیان میڈیا تعاون کو فروغ دینے اور جعلی خبروں اور غلط معلومات کا مقابلہ کرنے کے لیے شروع کیے گئے نئے منصوبے ’’چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور‘‘ (CPIC) نے پاکستان میں صحافتی آزادی، آزاد صحافت اور آزادی اظہار کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
بین الاقوامی امور کے معروف جریدے دی ڈپلومیٹ نے 4 نومبر 2026 کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ منصوبہ پاکستان اور چین کی حکومتوں کو میڈیا کے بیانیے، معلومات کی ترسیل اور عوامی رائے پر زیادہ اثرانداز ہونے کا موقع فراہم کر سکتا ہے، خصوصاً چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سے متعلق معاملات میں۔
رپورٹ میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ آیا یہ منصوبہ واقعی جعلی خبروں اور غلط معلومات کے تدارک کے لیے شروع کیا گیا ہے یا اس کے ذریعے دونوں حکومتوں کے سرکاری مؤقف کو فروغ دینے اور ان پر تنقیدی رپورٹنگ کی حوصلہ شکنی کا راستہ ہموار ہو سکتا ہے۔
چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور کا باضابطہ افتتاح 27 اکتوبر کو اسلام آباد کے پاکستان چین فرینڈشپ سینٹر میں وزارت اطلاعات و نشریات کے زیر اہتمام ایک تقریب میں کیا گیا۔ تقریب میں وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ اور پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زائی ڈونگ نے شرکت کی۔
اس منصوبے کے تحت پاکستان اور چین کے 18 میڈیا ادارے ایک دوسرے کے ساتھ خبریں، مواد اور معلومات کا تبادلہ کریں گے اور دونوں ممالک کے نزدیک جعلی خبروں، گمراہ کن معلومات اور پروپیگنڈے کا مشترکہ طور پر مقابلہ کریں گے۔
ان اداروں میں پاکستان کے سرکاری نشریاتی اداروں اور بعض نجی میڈیا تنظیموں کے علاوہ چین کے سرکاری خبر رساں ادارے شنہوا، چائنا میڈیا گروپ اور پیپلز ڈیلی بھی شامل ہیں۔
منصوبے کے تحت ایک مشترکہ فیکٹ چیکنگ یونٹ بھی قائم کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے، جو مبینہ طور پر گمراہ کن خبروں کی نشاندہی اور ان کا جواب دے گا۔ اس کے علاوہ پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ دونوں ممالک کے تھنک ٹینکس کے درمیان مشترکہ تحقیق اور اشاعتوں کے لیے کردار ادا کرے گا، جس کا مقصد پاکستان چین تعلقات اور سی پیک کے حوالے سے بیانیے کو فروغ دینا ہے۔
دونوں حکومتوں کے مطابق اس اقدام کا مقصد میڈیا تعاون کو مضبوط بنانا، عوام میں بہتر آگاہی پیدا کرنا اور پاکستان چین اسٹریٹجک شراکت داری کے خلاف پھیلائی جانے والی غلط معلومات کا مقابلہ کرنا ہے۔
دی ڈپلومیٹ کے آزاد صحافت کے مستقبل سے متعلق خدشات
دی ڈپلومیٹ کے مطابق اس منصوبے پر بنیادی سوالات اس لیے اٹھ رہے ہیں کہ پاکستان میں آزاد صحافت پہلے ہی قانونی، سیاسی اور ادارہ جاتی دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔
رپورٹ میں خاص طور پر جنوری 2025 میں پاکستان کے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) میں کی جانے والی ترامیم کا حوالہ دیا گیا ہے۔ جریدے کا کہنا ہے کہ ان ترامیم کے باعث ایسا ماحول پیدا ہو سکتا ہے جہاں حکومت پر تنقید یا حساس معاملات پر آزادانہ رپورٹنگ کو بھی غلط معلومات قرار دیا جائے۔
پیکا کی دفعہ 26-A کے تحت ایسی معلومات جان بوجھ کر پھیلانے پر تین سال تک قید، 20 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں، جنہیں جھوٹا سمجھنے کی معقول وجہ موجود ہو اور جن سے عوام میں خوف، انتشار یا بے چینی پیدا ہونے کا خدشہ ہو۔
رپورٹ میں رافٹر کے بانی فرحان ملک کی مارچ 2025 میں گرفتاری اور روزنامہ ڈان کے صحافی محمد اکبر نوٹزئی کو بلوچستان میں مبینہ بدعنوانی سے متعلق تحقیقاتی رپورٹنگ پر نیشنل سائبر کرائمز انویسٹی گیشن ایجنسی کی جانب سے نوٹس جاری کیے جانے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز (RSF) اور فریڈم نیٹ ورک کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے جریدے نے صحافیوں کے خلاف قانونی کارروائیوں اور دیگر خلاف ورزیوں میں اضافے پر تشویش ظاہر کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس صورتحال سے صحافیوں میں خود سنسرشپ کا رجحان بڑھ سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سی پیک سے متعلق چینی سرمایہ کاری، مالی معاہدوں، توانائی کے شعبے کے واجبات، مبینہ بدعنوانی، سکیورٹی انتظامات اور گوادر میں عوامی احتجاج جیسے معاملات پر تحقیقاتی صحافت کرنے والے صحافیوں کو اضافی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، خصوصاً اگر ان کی رپورٹنگ کو سرکاری بیانیے کے خلاف قرار دیا جائے۔
صحافیوں کی پیکا ترامیم پر تنقید
پاکستان میں صحافتی آزادی پر پابندیوں کے حوالے سے سینئر صحافی مظہر عباس نے بھی پیکا قانون میں حالیہ ترامیم کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ایک مقامی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ان ترامیم کو پاکستان کی 76 سالہ تاریخ کے بدترین میڈیا قوانین میں سے ایک قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ ترامیم صرف صحافیوں تک محدود نہیں بلکہ اس قانون کو کسی بھی وقت کسی بھی شہری کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ قانون میں کئی مبہم اور وسیع نوعیت کی شقیں شامل ہیں، جن کے ذریعے حکام کو جعلی خبروں اور ڈس انفارمیشن کے خاتمے کے نام پر لوگوں کے خلاف کارروائی کے وسیع اختیارات مل جاتے ہیں۔
مظہر عباس نے کہا، ’’یہ صرف میڈیا مخالف قانون نہیں بلکہ عوام مخالف قانون ہے۔‘‘
ان کے مطابق اس قانون کو حکومت اور ریاستی ادارے اختلافی آوازوں کو دبانے، تنقید کرنے والوں کو خاموش کرنے اور مختلف افراد کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
ماضی میں میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صحافیوں نے 2016 میں قانون سازی کے وقت بھی ایسے خدشات کا اظہار کیا تھا اور بعد میں جب سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری پیکا آرڈیننس لے کر آئے تو اس وقت بھی صحافیوں نے خبردار کیا تھا کہ حکومت اور ریاست ان اختیارات کو کسی کے خلاف بھی استعمال کر سکتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ماضی کی غلطیوں سے سبق نہیں سیکھا گیا اور آج جو سیاسی قوتیں ایسے قوانین متعارف کرا رہی ہیں، انہیں بھی ایک دن اپوزیشن میں بیٹھ کر انہی قوانین کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
میڈیا محقق کی مختلف رائے
دوسری جانب میڈیا محقق اور صحافی شہاب اللہ یوسفزئی کا کہنا ہے کہ دی ڈپلومیٹ کی رپورٹ میں اٹھائے گئے خدشات کا جائزہ ایک وسیع تر تناظر میں لینے کی ضرورت ہے۔
ان کے مطابق اس رپورٹ میں پاکستان اور چین کے سرکاری سرپرستی میں چلنے والے میڈیا نظام کے بارے میں ایک بڑی حد تک یک طرفہ نقطہ نظر پیش کیا گیا ہے۔
شہاب اللہ یوسفزئی نے تسلیم کیا کہ پاکستان میں پیکا قانون کے نفاذ اور اس کی ترامیم نے صحافیوں کے لیے مشکلات پیدا کی ہیں اور صحافتی آزادی کو متاثر کیا ہے، تاہم ان کے خیال میں چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور کے اثرات کو رپورٹ میں بیان کیے گئے انداز سے زیادہ منفی یا وسیع تناظر میں دیکھنا ضروری نہیں۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ بی بی سی، سی این این اور فاکس نیوز جیسے بین الاقوامی میڈیا ادارے بھی مختلف ممالک میں کام کر رہے ہیں، جہاں قومی قوانین اور بعض حساس معلومات سے متعلق پابندیاں موجود ہیں۔
ان کے مطابق ہر ملک میں قومی سلامتی، خفیہ معلومات اور ریاستی رازوں کے تحفظ کے لیے کچھ نہ کچھ ضابطے اور پابندیاں موجود ہوتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ چین میں ایغور مسلمانوں کی صورتحال اور داعش اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) جیسی شدت پسند تنظیموں کی سرگرمیوں سمیت متعدد حساس معاملات پر بین الاقوامی میڈیا پہلے ہی تفصیلی رپورٹنگ اور تحقیقات کر چکا ہے۔
شہاب اللہ یوسفزئی کے مطابق پاکستان اور چین کے میڈیا اداروں کے درمیان تعاون کو محض آزاد صحافت کو دبانے کی کوشش قرار نہیں دینا چاہیے، بلکہ اس منصوبے کے عملی طریقہ کار، شفافیت اور نتائج کا جائزہ لینے کے بعد ہی اس کے اثرات کے بارے میں حتمی رائے قائم کی جانی چاہیے۔
چین کا میڈیا پر اثر و رسوخ اور عالمی خدشات
دی ڈپلومیٹ کی رپورٹ میں چین میں صحافتی آزادی کی صورتحال اور بین الاقوامی سطح پر چینی سرکاری میڈیا اداروں کے بڑھتے ہوئے کردار پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
رپورٹ میں رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز کے 2026 کے پریس فریڈم انڈیکس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ 180 ممالک کی فہرست میں پاکستان کا نمبر 153 جبکہ چین کا نمبر 178 ہے۔
جریدے کے مطابق شنہوا، چائنا میڈیا گروپ اور پیپلز ڈیلی جیسے چینی سرکاری اداروں کی اس منصوبے میں شمولیت سے ادارتی آزادی اور سرکاری بیانیے کے ممکنہ اثر و رسوخ کے حوالے سے سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
رپورٹ میں فریڈم ہاؤس کی ایک تحقیق کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جس میں 30 ممالک میں چین کے میڈیا اثر و رسوخ کا جائزہ لیا گیا تھا۔ جریدے کے مطابق چینی سرکاری میڈیا کے ساتھ قریبی تعاون آزاد میڈیا اداروں کے لیے بعض نئے چیلنجز پیدا کر سکتا ہے۔
تاہم بنیادی سوال یہ ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان میڈیا تعاون کس حد تک صحافیوں کو دونوں حکومتوں سے متعلق معاملات پر آزادانہ رپورٹنگ کا موقع فراہم کرے گا۔
پاکستان کے لیے اس منصوبے کے ممکنہ اثرات
چین پاکستان اقتصادی راہداری پاکستان کی اہم ترین اقتصادی اور اسٹریٹجک شراکت داریوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کے تحت بنیادی ڈھانچے کی ترقی، توانائی کے منصوبے، ٹرانسپورٹ کے نظام، صنعتی تعاون اور گوادر بندرگاہ کی ترقی جیسے اہم منصوبے شامل ہیں۔
ان منصوبوں کے حوالے سے مالی معاہدوں، بجلی کے شعبے کے واجبات، منصوبوں پر عمل درآمد، روزگار کے مواقع، ماحولیاتی اثرات اور سکیورٹی صورتحال کی شفافیت اور آزادانہ جانچ پڑتال ضروری ہے۔
صحافیوں کو یہ آزادی حاصل ہونی چاہیے کہ وہ ان معاملات کی تحقیقات کریں اور کسی خوف یا دباؤ کے بغیر عوام تک حقائق پہنچائیں۔ تنقیدی رپورٹنگ کو محض چین مخالف پروپیگنڈا یا غلط معلومات قرار دینا آزاد صحافت اور عوام کے حق معلومات کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب حکومتوں کو بھی جعلی خبروں کا جواب دینے اور قومی سلامتی سے متعلق حساس معلومات کے تحفظ کا جائز حق حاصل ہے۔ اصل چیلنج یہ ہے کہ جان بوجھ کر پھیلائی جانے والی غلط معلومات اور جائز تنقید یا تحقیقاتی صحافت کے درمیان واضح فرق برقرار رکھا جائے۔
میڈیا ماہرین کی مختلف آرا اس بات کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں کہ معلومات کے تبادلے اور میڈیا تعاون کے نام پر آزادانہ صحافت کو محدود نہیں ہونا چاہیے۔