افغان مہاجر بچوں کو تعلیم دینے والے 291 پاکستانی اساتذہ برطرف، واجبات کی عدم ادائیگی پر انصاف کے لیے احتجاج

ریاض حسین

پشاور: خیبرپختونخوا میں افغان مہاجرین کے کیمپوں میں تقریباً 40 سال تک افغان بچوں کو تعلیم دینے والے 291 پاکستانی مرد و خواتین اساتذہ نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کی جانب سے مبینہ طور پر ملازمتوں سے برطرف کیے جانے اور گریجویٹی سمیت دیگر مالی مراعات کی عدم ادائیگی پر گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی اور وفاقی حکومت سے انصاف کی فراہمی کے لیے مداخلت کی اپیل کی ہے۔

بدھ کے روز پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے متاثرہ اساتذہ کے نمائندوں طفیل احمد اور فرحانہ درانی نے الزام عائد کیا کہ یو این ایچ سی آر نے گزشتہ ماہ انہیں پیشگی نوٹس اور کسی قسم کا مالی معاوضہ دیے بغیر فون کالز کے ذریعے ملازمتوں سے فارغ کر دیا، حالانکہ وہ ادارے کے ساتھ باضابطہ معاہدوں کے تحت کئی دہائیوں سے خدمات انجام دے رہے تھے۔

طفیل احمد کا کہنا تھا کہ اساتذہ نے یو این ایچ سی آر کی ہدایات پر تقریباً چار دہائیوں تک افغان بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے اپنی خدمات وقف کیے رکھیں، لیکن اب ادارے کے اس اقدام سے 291 پاکستانی خاندانوں کا مستقبل غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے یو این ایچ سی آر کی ہدایات پر افغان بچوں کو تعلیم دی، لیکن آج اسی ادارے کے فیصلے نے ہمارے اپنے بچوں کا مستقبل خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ان کے مطابق گریجویٹی اور دیگر واجبات کی ادائیگی کے لیے متعدد درخواستیں جمع کرائی گئیں، تاہم ادارے کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

طفیل احمد نے بتایا کہ متاثرہ اساتذہ گزشتہ تین روز سے پشاور میں یو این ایچ سی آر کے دفتر کے باہر دھرنا دیے ہوئے ہیں اور اپنے حقوق کے حصول کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس پرامن مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے کے بجائے مظاہرین کو ہراساں کر رہی ہے۔

اس موقع پر خاتون ٹیچر فرحانہ درانی نے کہا کہ افغان مہاجرین کی واپسی کے بعد اساتذہ کو یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ ان کی ملازمتوں اور مالی مراعات کے معاملات کا خیال رکھا جائے گا، تاہم بعد ازاں یو این ایچ سی آر نے اپنا مؤقف تبدیل کرتے ہوئے اساتذہ کو مبینہ طور پر واجبات اور وعدہ شدہ مراعات کی ادائیگی کے بغیر ملازمتوں سے فارغ کر دیا۔

انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ اساتذہ کو ان کی خدمات کے عوض انتہائی کم تنخواہیں دی جاتی رہیں، جبکہ ان کے بقول ادارے کی جانب سے ڈالرز میں ادائیگیوں کے باوجود انہیں اس تناسب سے معاوضہ نہیں ملا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال بین الاقوامی محنت کشوں کے طے شدہ معیار اور حقوق سے متعلق سوالات کو جنم دیتی ہے۔

فرحانہ درانی کے مطابق اچانک ملازمتوں کے خاتمے نے متعدد خاندانوں کو شدید مالی مشکلات سے دوچار کر دیا ہے، جبکہ بعض اساتذہ پہلے ہی صحت اور خاندانی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔

انہوں نے جذباتی انداز میں گورنر خیبرپختونخوا اور وفاقی حکومت سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں، متاثرہ اساتذہ کے جائز واجبات کی ادائیگی یقینی بنائیں اور ان کے بچوں کے مستقبل کو تحفظ فراہم کریں۔

متاثرہ اساتذہ کا تعلق خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع سے ہے، جن میں پشاور، نوشہرہ، صوابی، ہری پور، مردان، تیمرگرہ، کوہاٹ، چکدرہ، ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں، لکی مروت، ہنگو اور ٹل شامل ہیں۔

احتجاج کرنے والے اساتذہ نے اعلان کیا کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے اور گریجویٹی سمیت دیگر واجب الادا مالی مراعات ادا نہیں کی جاتیں، وہ اپنا پرامن دھرنا جاری رکھیں گے۔

متاثرہ اساتذہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی کے تقریباً 40 سال افغان بچوں کا مستقبل سنوارنے میں گزار دیے، لیکن آج انہیں اپنے ہی خاندانوں اور بچوں کے مستقبل کے حوالے سے شدید خدشات لاحق ہیں۔

Related posts

چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور: صحافتی آزادی اور میڈیا کی خودمختاری پر نئے سوالات

سعودی عرب نے پاکستان کا 3 ارب ڈالر کا قرض رول اوور کردیا، وزیر خزانہ کی تصدیق

بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سے عوام پریشان، آئی پی پیز کے کیپیسٹی پیمنٹس اور مہنگے توانائی نظام نے معاشی مشکلات بڑھا دیں