رپورٹ: نعیم اچکزئی
بلوچستان کے سرحدی ضلع چمن میں گندم کی کم پیداوار اور آٹے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ مقامی آٹا ڈیلرز کے مطابق، گزشتہ سال گندم کی پیداوار بہتر ہونے کے باعث فائن آٹے کی بوری تقریباً 4 ہزار 800 سے 5 ہزار روپے میں دستیاب تھی، تاہم رواں سال گندم کی فصل کم ہونے کے باعث آٹے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
دوسری جانب، مقامی مارکیٹ میں مختلف اقسام کے آٹے کی قیمتیں بھی مختلف ہیں، جس کے باعث عام صارفین کے لیے اپنی ضروریات پوری کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
چمن کے مقامی آٹا ڈیلر حاجی محمد زئی کے مطابق، گزشتہ سال گندم کی پیداوار نسبتاً زیادہ تھی، جس کے باعث مارکیٹ میں گندم اور آٹے کی دستیابی بہتر رہی اور قیمتیں بھی موجودہ سطح کے مقابلے میں کم تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال فائن آٹے کی بوری تقریباً 4 ہزار 800 سے 5 ہزار روپے کے درمیان فروخت ہو رہی تھی، جبکہ رواں سال گندم کی فصل کم ہونے کے باعث آٹے کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
حاجی محمد زئی کے مطابق، رواں سال گندم کی کم پیداوار کے اثرات آٹے کی مارکیٹ پر مرتب ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر گندم کی فراہمی میں بہتری نہ آئی اور طلب کے مطابق گندم دستیاب نہ ہوئی تو آنے والے دنوں میں آٹے کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کا خدشہ برقرار رہے گا۔
مقامی ڈیلر نے چمن میں آٹے کی موجودہ قیمتوں کے حوالے سے بتایا کہ مختلف اقسام اور وزن کے تھیلوں کے نرخ الگ الگ ہیں۔ ان کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، بعض اقسام کے آٹے کے 20 کلو کے تھیلے کی قیمت تقریباً 3 ہزار 50 روپے بتائی گئی، جبکہ دیگر اقسام کے نرخ بھی مختلف ہیں۔ تاہم، ان نرخوں اور تھیلوں کے وزن کی حتمی تصدیق ضروری ہے تاکہ صارفین کو مارکیٹ کی درست صورتِ حال سے آگاہ کیا جا سکے۔
حاجی محمد زئی کا کہنا ہے کہ اگر گندم اور آٹے کی قلت برقرار رہی اور ضرورت کے مطابق دوسرے علاقوں یا ممالک سے گندم کی خریداری اور فراہمی کا انتظام نہ کیا گیا تو بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق، گندم کی بروقت فراہمی، مارکیٹ میں آٹے کی دستیابی اور قیمتوں کو مناسب سطح پر رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ضروری ہیں۔
چمن جیسے سرحدی علاقے میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے سے کم آمدنی والے طبقے کے لیے گھریلو اخراجات پورے کرنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔ آٹا روزمرہ خوراک کی بنیادی ضرورت ہے، اس لیے اس کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عام شہریوں کے بجٹ کو براہِ راست متاثر کرتا ہے۔ ایسے حالات میں گندم کی دستیابی، ترسیل کے نظام اور مارکیٹ میں قیمتوں کی نگرانی کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔
شہریوں کو مناسب قیمت پر آٹے کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ گندم کی دستیابی اور ترسیل کا جائزہ لیا جائے، مارکیٹ میں قیمتوں کی نگرانی کی جائے اور قلت کی تصدیق ہونے کی صورت میں اس کے تدارک کے لیے بروقت اقدامات کیے جائیں۔