پی ٹی آئی حکومت کو وسائل کا نہیں نیت کا مسئلہ ہے، سہیل آفریدی کارکردگی نہیں دکھا سکتے تو گھر چلے جائیں: عطا تارڑ

کوہاٹ (پاک ٹوڈے): وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اور انتظامی امور پر صوبائی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت انسداد دہشت گردی کے لیے وسائل کی کمی کا رونا روتی ہے، تاہم اصل مسئلہ فنڈز کا نہیں بلکہ ان کی نیت کا ہے۔

​کوہاٹ میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے سوال اٹھایا کہ صوبائی حکومت کو جواب دینا چاہیے کہ لا اینڈ آرڈر اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے مختص ترقیاتی فنڈز کہاں استعمال ہو رہے ہیں؟ انہوں نے الزام عائد کیا کہ خیبر پختونخوا میں تمام اہم اور مائننگ کے ٹھیکے من پسند افراد میں تقسیم کیے جا رہے ہیں اور عوام کا فنڈ سیاسی مقصد کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو صوبے پر حکمرانی کے ساڑھے بارہ سالوں کا حساب دینا پڑے گا۔

​وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی کارکردگی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر صوبائی قيادت امن و امان قائم رکھنے اور عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام ہے تو انہیں عہدہ چھوڑ کر گھر چلے جانا چاہیے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ وزیر اعلیٰ کے پاس انتشار پھیلانے اور لاہور جا کر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا وقت ہے، لیکن اپنے صوبے کے زخمیوں اور متاثرین کی عیادت کے لیے صرف 15 منٹ کا ہیلی کاپٹر دورہ کرتے ہیں۔

​اسلام آباد کی جانب متوقع احتجاجی مارچ اور دھرنے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ نے واضح کیا کہ اس بار کسی کو بھی وفاقی دارالحکومت کو بند کرنے یا امن و امان میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی تاریخ پرامن احتجاج کی نہیں بلکہ جلاؤ گھیراؤ اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کی رہی ہے۔ حکومت نے چھ مرتبہ مذاکرات کی سنجیدہ کوششیں کیں لیکن مخالف فریق کی نیت بات چیت کی کبھی نہیں رہی۔

​میڈیا سے گفتگو سے قبل وفاقی وزیر اطلاعات نے کوہاٹ دھماکے میں شہید ہونے والے پولیس اہلکار کے والد اور اسپتال میں زیر علاج زخمیوں کی عیادت کی اور ان کی دلی تعزیت و مزاج پرسی کی۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ شہداء اور زخمیوں نے ملکی دفاع اور عوام کے تحفظ کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں، قوم اپنے بہادر جوانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ہم سب مل کر دہشت گردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ کریں گے۔

Related posts

پشاور تعلیمی بورڈ کے انٹر امتحانات میں تشویشناک نتائج، تقریباً نصف طلبہ فیل

وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے سے صوبائی وزیر فضل شکور خان اغواء، صبح سے لاپتہ

خیبر پختونخوا آپریشن؛ 37 شدت پسند ہلاک کرنے اور سرحد پار اڈے تباہ کرنے کا دعویٰ، افغانستان کا عام شہریوں کے مارے جانے کا بیان