لاہور (پاک ٹوڈے): امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے اپوزیشن جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ حکومت کی جانب سے عوام پر عائد پیٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف بھرپور آواز اٹھائیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ تمام اپوزیشن جماعتوں کو مہنگائی اور عوامی مسائل پر مشترکہ اور مؤثر آواز بلند کرنی چاہیے۔
حافظ نعیم الرحمان نے پیٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف جاری احتجاجی تحریک کے سلسلے میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے رابطہ کیا۔
مولانا فضل الرحمان نے جماعت اسلامی کی پیٹرولیم لیوی کے خلاف تحریک کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی عوام کے حقیقی مسائل پر آواز اٹھا رہی ہے، جو قابلِ تحسین ہے۔ انہوں نے عوام کو درپیش مشکلات کے حل کے لیے سیاسی جماعتوں کے مؤثر کردار کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے بھی پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر وفاقی حکومت سے عوام کو ریلیف دینے کا مطالبہ کیا اور جماعت اسلامی کی عوامی مسائل کے حوالے سے جمہوری جدوجہد کو سراہا۔
لاہور میں دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی کے ملک بھر میں 35 مقامات پر دھرنے جاری ہیں۔ عوام پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کے لیے دھرنوں میں بیٹھے ہیں اور اپنے حق کے لیے گھروں سے نکلنا کوئی معمولی بات نہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے عوام پر ’’پیٹرول بم‘‘ گرانے کا فیصلہ کر رکھا ہے اور عالمی مارکیٹ کا بہانہ بنا کر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھائی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کا مؤقف ہے کہ پاکستان جہاں سے تیل خریدتا ہے وہاں قیمتیں زیادہ ہیں، تاہم سوال یہ ہے کہ عالمی قیمتوں سے قطع نظر پیٹرولیم لیوی کے نام پر عوام سے اضافی بوجھ کیوں لیا جا رہا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر اپنے تحفظات حکومت اور میڈیا کے سامنے واضح کر دیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکمرانوں کا مؤقف ہے کہ لیوی ختم کی گئی تو حکومت کیسے چلے گی، لیکن دوسری جانب عوام کو مہنگائی کے بھاری بوجھ تلے دبا دیا گیا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان کے مطابق طالب علم، کسان، مزدور اور اساتذہ سمیت معاشرے کا کوئی طبقہ بھی پیٹرولیم لیوی کے اثرات سے محفوظ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکمران اپنی شاہ خرچیاں کم کرنے کو تیار نہیں، جبکہ عوام پر مسلسل معاشی بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔
حکومت کے پاس مذاکرات میں کوئی جواب نہیں، حافظ نعیم الرحمان
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت اور جماعت اسلامی کی مذاکراتی کمیٹی کے درمیان دو دور ہو چکے ہیں، تاہم حکومت اپنی وزارتوں اور محکموں سے بات کرنے کے لیے بار بار وقت مانگ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس عملاً جماعت اسلامی کی ٹیم کے مطالبات کا کوئی جواب نہیں۔ جماعت اسلامی نے اسلام آباد مارچ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت کو پہلے ہی 26 دن کا وقت دیا جا چکا ہے، مزید وقت نہیں دیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ دھرنے کے شرکا کا جذبہ دیکھ کر دل چاہتا ہے کہ لانگ مارچ کا اعلان ابھی کر دیا جائے۔
اسلام آباد لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان گوجرانوالہ میں ہوگا
حافظ نعیم الرحمان نے بتایا کہ مشاورت کے لیے جماعت اسلامی کی ملک بھر سے قیادت کو منصورہ طلب کر لیا گیا ہے، جہاں قیادت کے اجلاس میں اسلام آباد لانگ مارچ کی حتمی تاریخ طے کی جائے گی۔
انہوں نے اعلان کیا کہ گوجرانوالہ میں ہونے والے جلسے میں اسلام آباد لانگ مارچ کی تاریخ کا باقاعدہ اعلان کیا جائے گا۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ عوام کے حقوق اور پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کے لیے جماعت اسلامی کی احتجاجی تحریک مزید آگے بڑھائی جائے گی۔