لاہور (پاک ٹوڈے): حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان پیٹرولیم لیوی سمیت عوامی مطالبات پر مذاکرات کا پانچواں دور بھی کسی حتمی پیش رفت کے بغیر ختم ہوگیا، حکومتی وفد نے سکیورٹی خدشات کے باعث جماعت اسلامی سے لانگ مارچ مؤخر کرنے کی درخواست کی، تاہم جماعت اسلامی نے احتجاج کا شیڈول برقرار رکھنے کا اعلان کردیا۔
حکومتی وفد میں وفاقی وزیر احسن اقبال، رانا ثنااللہ اور صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق شریک ہوئے، جبکہ جماعت اسلامی کی نمائندگی نائب امیر لیاقت بلوچ، قائم مقام سیکرٹری جنرل نذیر احمد جنجوعہ، معاون خصوصی عمیر ادریس، امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری اور سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی نے کی۔
حکومتی وفد نے مذاکرات کے دوران جماعت اسلامی کو یقین دہانی کرائی کہ عوامی سطح پر جلد غیر معمولی ریلیف کے اقدامات کیے جائیں گے۔ وفد کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے کا دباؤ موجود ہے اور اس حوالے سے متعلقہ وفد کی پاکستان آمد بھی متوقع ہے۔
نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی کے خاتمے تک لانگ مارچ لازم ہوگا۔ ان کے مطابق حکومت عوامی مطالبات پر عملی اقدامات کرے، بصورت دیگر احتجاج اور لانگ مارچ جاری رکھا جائے گا۔
لیاقت بلوچ نے بتایا کہ جماعت اسلامی کے اعلان کردہ پروگرام کے مطابق امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں سپر لانگ مارچ 20 ستمبر کو کراچی سے شروع ہوگا اور ملک کے مختلف حصوں سے قافلے اسلام آباد کی جانب روانہ ہوں گے۔
حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان اس سے قبل بھی مذاکرات کے کئی ادوار ہوچکے ہیں۔ 15 ستمبر کو ہونے والے مذاکرات میں جماعت اسلامی نے حکومتی فیول ریلیف اقدامات کا خیرمقدم کرتے ہوئے پیٹرولیم لیوی میں کمی اور عوامی مسائل کے مستقل حل پر زور دیا تھا۔
حکومتی وفد نے اس موقع پر جماعت اسلامی کی سفارشات وزیراعظم تک پہنچانے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے وفد کو بتایا تھا کہ حکومت نے حالیہ بحران کے دوران ملک بھر میں ایندھن کی فراہمی برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کیے، جبکہ موٹر سائیکلوں، چنگچی رکشوں، رکشوں اور چھوٹی گاڑیوں کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈی بھی دی جا رہی ہے۔
جماعت اسلامی کی جانب سے پیٹرولیم لیوی کے خلاف ملک کے مختلف بڑے شہروں میں دھرنے جاری ہیں اور 20 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان پہلے ہی کیا جا چکا ہے۔