پولیس مقابلے یا فوری انصاف؟ پنجاب میں 1,100 ہلاکتیں، خیبر پختونخوا میں بھی سینکڑوں مشتبہ افراد مارے گئے

تحریر: اسلام الدین ساجد

اسلام آباد (پاک ٹوڈے): پاکستان کے صوبہ پنجاب میں پولیس مقابلوں کے دوران مشتبہ افراد کی ہلاکتوں میں اضافے نے قانون کی حکمرانی، ملزمان کے منصفانہ ٹرائل کے حق اور پولیس کی کارروائیوں پر آزادانہ نگرانی کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

تازہ تنازع ملتان میں 15 سالہ یتیم لڑکے وسیم عباس کو گاڑی تلے کچل کر ہلاک کرنے کے الزام میں گرفتار کیے گئے توقیر نذیر کی بہاولپور میں مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاکت کے بعد شدت اختیار کر گیا ہے۔

انسانی حقوق کمیشن پاکستان (HRCP) نے اپریل 2025 سے جون 2026 تک تقریباً 808 پولیس مقابلوں کو دستاویزی طور پر ریکارڈ کیا، جن میں کم از کم 1,100 مشتبہ افراد مارے گئے۔

کمیشن نے ان کارروائیوں میں مہلک طاقت کے مسلسل استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قانونی کارروائی اور عدالتی عمل سے باہر ہلاکتوں کو معمول سمجھنا انسانی زندگی اور قانون کی حکمرانی کے لیے خطرہ ہے۔

پنجاب: آٹھ ماہ میں 924 مشتبہ افراد ہلاک

HRCP کی فروری 2026 میں شائع ہونے والی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، 15 اپریل سے 15 دسمبر 2025 کے درمیان پنجاب کے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کی کم از کم 670 کارروائیوں کو پولیس مقابلوں کے طور پر دستاویزی شکل دی گئی۔ ان واقعات میں 924 مشتبہ افراد ہلاک ہوئے، جبکہ پولیس کے دو اہلکار جان بحق ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق، ان مقابلوں کی تعداد، ہلاکتوں میں غیر معمولی فرق اور مختلف اضلاع میں واقعات کی مبینہ طور پر ملتی جلتی تفصیلات نے اس خدشے کو تقویت دی کہ یہ محض انفرادی واقعات نہیں، بلکہ پولیسنگ کے ایک وسیع تر طریقۂ کار کا حصہ ہو سکتے ہیں۔

کمیشن نے الزام لگایا کہ بعض کارروائیوں میں مبینہ طور پر ایسے حالات پیش کیے گئے جن میں مشتبہ افراد پولیس پر فائرنگ کرتے ہیں، جوابی کارروائی میں مارے جاتے ہیں اور ان کے ساتھ موجود دوسرے افراد فرار ہو جاتے ہیں۔

کمیشن نے ان واقعات کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر سنگین جرائم کی روک تھام کے نام پر عدالتی عمل کو نظرانداز کیا گیا تو اس سے نظامِ انصاف پر عوامی اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔

خیبر پختونخوا میں بھی 289 مشتبہ افراد ہلاک

پولیس مقابلوں اور ان میں ہونے والی ہلاکتوں کا معاملہ صرف پنجاب تک محدود نہیں ہے۔

کمیشن کی رپورٹ ’اسٹیٹ آف ہیومن رائٹس اِن 2025‘ کے مطابق، خیبر پختونخوا میں 2025 کے دوران پولیس کے 162 مقابلوں میں 289 مشتبہ افراد ہلاک ہوئے۔

اسی رپورٹ کے مطابق، سندھ میں 137 پولیس مقابلوں کے دوران 205 مشتبہ افراد ہلاک ہوئے۔ اسی طرح پورے ملک میں 2025 کے دوران 1,155 پولیس مقابلوں میں مجموعی طور پر 1,696 مشتبہ افراد کی ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں۔

ان اعداد و شمار سے یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ آیا پولیس مقابلوں میں ہونے والی ہلاکتوں کی مؤثر، شفاف اور آزادانہ تحقیقات کے لیے پورے ملک میں یکساں طریقۂ کار موجود ہے یا نہیں۔

HRCP کی جانب سے عدالتی کمیشن کے قیام کا مطالبہ

انسانی حقوق کمیشن پاکستان نے پنجاب میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کی کارروائیوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ سطحی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

کمیشن کے مطابق، پولیس مقابلوں میں ہونے والی ہلاکتوں کے بارے میں سنگین سوالات کی موجودگی میں صرف محکمانہ انکوائری کافی نہیں ہو سکتی۔ ایسے واقعات کی تحقیقات میں آزادی، شفافیت اور قانونی جواب دہی ضروری ہے۔

کمیشن نے جون 2026 میں دوبارہ تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اپریل 2025 میں محکمے کے قیام کے بعد سے ریکارڈ کیے گئے 808 مقابلوں میں کم از کم 1,100 مشتبہ افراد کی ہلاکتیں اس معاملے کی فوری اور سنجیدہ جانچ کا تقاضا کرتی ہیں۔

HRCP کے مؤقف کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ کسی شخص پر سنگین جرم کا الزام ہو، تب بھی اس کی زندگی اور قانونی حقوق کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اگر پولیس کے پاس کسی ملزم کے خلاف شواہد موجود ہوں تو اسے عدالت میں پیش کرنا اور قانونی طریقے سے سزا دلوانا ریاستی نظامِ انصاف کا بنیادی تقاضا ہے۔

حکومتی رکنِ اسمبلی کی پوسٹ اور فوری انصاف کی بحث

ملتان کے حالیہ واقعے میں توقیر نذیر کی ہلاکت کے بعد مسلم لیگ (ن) کی رکنِ پنجاب اسمبلی حنا پرویز بٹ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ یہ مریم نواز شریف کی حکومت ہے، جہاں انصاف فوری ملتا ہے۔

ان کی اس پوسٹ، جس میں انہوں نے ملزم کی ہلاکت کی خبر بھی شیئر کی، پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی گئی۔ لوگوں نے سوال اٹھانا شروع کر دیا کہ کیا وزیرِ اعلیٰ مریم نواز نے پولیس کو حکم دیا تھا کہ اس ملزم کو مقابلے میں مار دیا جائے؟
اس بحث کے بعد حنا پرویز بٹ نے بظاہر حکومتی دباؤ کے باعث اپنی پوسٹ ڈیلیٹ کر دی اور وضاحت کی کہ ان کا بیان ذاتی رائے پر مبنی تھا اور یہ پنجاب حکومت کا مؤقف نہیں تھا۔

تاہم، سوشل میڈیا پر جاری بحث کے دوران ناقدین نے سوال اٹھایا کہ کیا پولیس مقابلے میں کسی زیرِ تفتیش ملزم کی ہلاکت کو انصاف کی کامیابی قرار دینا مناسب ہے، خصوصاً جب اس معاملے میں عدالتی کارروائی ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی۔

اس کے بعد پنجاب کی وزیرِ اطلاعات عظمیٰ بخاری نے بھی وضاحت کی کہ وزیرِ اعلیٰ مریم نواز کی جانب سے مشتبہ ملزمان کو پولیس مقابلوں میں ہلاک کرنے کے احکامات دینے کا تاثر غلط ہے۔

21 اکتوبر کو جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ مریم نواز نے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کو ملزمان کے انکاؤنٹر کرنے کا کوئی حکم نہیں دیا۔

ان کے مطابق، سنگین جرائم میں ملوث بعض افراد منظم گروہوں کا حصہ ہوتے ہیں اور ان کے ساتھی پولیس کی حراست سے انہیں چھڑانے کے لیے مسلح ہو کر آتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں فائرنگ کا تبادلہ ہو سکتا ہے۔

ان تمام وضاحتوں کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا ریاست جرائم پر قابو پانے کے ساتھ قانون کی حکمرانی کو بھی یقینی بنا رہی ہے، یا بعض معاملات میں فوری نتائج کی کوشش عدالتی عمل اور شفاف جواب دہی پر غالب آ رہی ہے؟

اس سوال کا جواب سیاسی بیانات یا پولیس کے دعووں سے نہیں، بلکہ شفاف تحقیقات، قابلِ اعتماد شواہد اور قانون کے مطابق احتساب سے ہی سامنے آ سکتا ہے۔

Related posts

تجارت اور سیاست کا الجھاؤ: چین، بھارت اور افغانستان کے ساتھ غیر متوازن تجارتی روابط، پاکستان کو 4.97 ارب ڈالر کے خسارے کا سامنا

معیشت، سیاست اور سیکیورٹی: پاکستان موجودہ بحرانوں سے کب اور کیسے نکل سکتا ہے؟

عبدالوحید کاکڑ: وہ حادثاتی آرمی چیف جس نے صدر اور وزیراعظم، دونوں کو گھر بھیجنے پر مجبور کیا