پمز آتشزدگی کیس: اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کو 2 ہفتے کی مہلت دے دی

اسلام آباد (پاک ٹوڈے): اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں آتشزدگی کے واقعے کی تحقیقات اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی برطرفی کے خلاف دائر درخواستوں پر وفاقی حکومت کو 2 ہفتوں کے اندر پوائنٹ وائز جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر کی عدالت میں ناصر عظیم، ناصر مجاہد اور ڈاکٹر محمد اقبال کی درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ اضافی اٹارنی جنرل راشد حفیظ نے عدالت کو بتایا کہ حکومت کی جانب سے جوابات تاحال جمع نہیں کرائے گئے۔

عدالت کی جانب سے تاخیر پر استفسار کیا گیا تو قانون افسر نے 2 سے 3 ہفتے کی مہلت طلب کرتے ہوئے بتایا کہ تحقیقات تقریباً مکمل ہو چکی ہیں اور وزیراعظم شہباز شریف کے احکامات کا انتظار ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ تفتیشی رپورٹ اور وفاقی حکومت کا جواب کارروائی مکمل ہونے کے بعد عدالت میں پیش کر دیا جائے گا۔

عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو اگلی سماعت تک پوائنٹ وائز کمنٹس جمع کرانے کی ہدایت کی اور سماعت 2 ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔

یاد رہے کہ 26 اگست کو پمز کے مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے واقعے میں 14 نوزائیدہ بچے جاں بحق ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد ہسپتال میں فائر سیفٹی کے انتظامات پر سوالات اٹھے جبکہ 8 ہسپتال حکام کے خلاف فوجداری کارروائی کا حکم بھی دیا گیا تھا۔

وزیراعظم شہباز شریف کے حکم پر سابق سیکرٹری داخلہ شاہد خان کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے 15 ستمبر کو 43 صفحات پر مشتمل رپورٹ پیش کی تھی، جس میں واقعے کو نظامی اور ادارہ جاتی ناکامی قرار دیا گیا جبکہ آگ لگنے کی سب سے ممکنہ وجہ بجلی کی خرابی بتائی گئی تھی۔

Related posts

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کا خدشہ، شوکت یوسفزئی کی لانگ مارچ ملتوی کرنے کی تجویز

عبوری افغان حکومت جنگجو ذہنیت ترک کرکے ریاستی سوچ اپنائے، عطاء اللہ تارڑ

بنوں میں پولیو کا ایک اور کیس سامنے آگیا، صوبے میں رواں سال 4 کیسز ہوگئے