پشاور (پاک ٹوڈے): پشاور ہائیکورٹ نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف درخواستوں پر وفاقی حکومت اور متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے معزول وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی حراست سے متعلق دو روز میں جواب طلب کر لیا ہے۔
روز نیوز کے مطابق سہیل آفریدی کی بازیابی کی درخواست پر سماعت کے دوران وکیل نے عدالت کو بتایا کہ انہیں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد حراست میں لیا گیا اور اطلاعات کے مطابق شاہی مہمان خانے میں رکھا گیا ہے۔ عدالت نے حکام سے ان کی موجودہ جگہ کے بارے میں باضابطہ جواب طلب کیا ہے۔
دوسری جانب پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کی درخواست پر سماعت کے دوران 11 اکتوبر کے صدارتی اعلان، ایمرجنسی، گورنر راج اور فوج کی تعیناتی کے احکامات کو غیر آئینی قرار دے کر کالعدم کرنے کی استدعا کی گئی۔ درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے آئینی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔
بیرسٹر گوہر علی خان نے عدالتی کارروائی کے بعد گفتگو کرتے ہوئے الزام لگایا کہ دہشت گردی کو جواز بنا کر منتخب صوبائی حکومت ختم کی گئی اور پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی کو حراست میں لیا گیا۔ انہوں نے وزیراعلیٰ اور دیگر ارکان کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا۔
عدالت نے گورنر راج اور ایمرجنسی کے خلاف درخواست پر مزید سماعت 10 نومبر تک ملتوی کر دی۔