پشاور (پاک ٹوڈے): موجودہ سیکیورٹی صورتحال اور ممکنہ خطرات کے پیش نظر پشاور پولیس نے شہر میں سیکیورٹی مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
رات گئے کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر ڈاکٹر میاں سعید احمد کی زیر صدارت سینئر پولیس افسران کا اجلاس ہوا، جس میں شہر کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال اور ممکنہ خطرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں تمام تھانوں، پولیس چوکیوں، پولیس لائنز اور اہم مقامات کی سیکیورٹی مزید بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ سینئر پولیس افسران کو فیلڈ میں موجود رہ کر سیکیورٹی انتظامات کی براہ راست نگرانی کی ہدایت کی گئی۔
پشاور کے داخلی و خارجی راستوں پر سخت چیکنگ اور مؤثر ناکہ بندیوں کے علاوہ سٹی، کینٹ، فقیرآباد اور مضافاتی علاقوں میں ہوٹلز، سرائے اور گھروں کی سرچنگ بھی کی جائے گی۔
پولیس نے غیر رجسٹرڈ کرایہ داروں اور مشکوک افراد کے خلاف کارروائی کی ہدایت کرتے ہوئے سنیپ چیکنگ کے دوران مشکوک سرگرمیوں، کالے شیشوں والی گاڑیوں اور ڈبل سوار موٹر سائیکلوں پر کڑی نظر رکھنے کا حکم دیا ہے۔
کیپیٹل سٹی پولیس پشاور کے مطابق شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
خیبرپختونخوا میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کے بعد صوبے میں سیکیورٹی انتظامات مزید سخت کیے جا رہے ہیں۔ 18 ستمبر کوہاٹ کے اولڈ پولیس لائنز کمپلیکس میں خودکش دھماکے اور مسلح حملے کے نتیجے میں متعدد افراد جاں بحق اور 100 سے زائد زخمی ہوئے تھے، جبکہ کلیئرنس آپریشن کئی گھنٹے جاری رہا۔
اس سے ایک روز قبل ہنگو میں سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر بارودی سرنگ کے حملے میں 6 اہلکار جاں بحق ہوئے تھے۔ پشاور کے مضافاتی علاقوں میں بھی گزشتہ عرصے کے دوران سی ٹی ڈی آپریشنز، ایف سی پوسٹس پر حملوں اور دیگر سیکیورٹی واقعات کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔
پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی مشکوک سرگرمی یا مشتبہ شخص کی موجودگی کی فوری اطلاع متعلقہ پولیس کو دی جائے۔