پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر، برآمدات اور سرمایہ کاری میں اضافہ، مگر معاشی تصویر نامکمل، ماہرین

تحریر: ریاض حسین

پشاور: پاکستان کی معیشت کے بعض اہم اشاریوں میں مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی کے دوران بہتری ریکارڈ کی گئی، جس میں زرمبادلہ کے ذخائر، برآمدات، ترسیلاتِ زر اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ شامل ہے۔ تاہم، وزارتِ خزانہ کے جاری کردہ معاشی اسکور کارڈ میں درآمدات، مہنگائی، فی کس آمدنی اور غربت کے تازہ اعدادوشمار شامل نہیں کیے گئے، جس سے معیشت کی مجموعی صورتحال اور عام شہریوں پر اس کے اثرات کا اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے۔

وزارتِ خزانہ کے پاکستان میکرو، ریفارم اینڈ انویسٹمنٹ اسکور کارڈ کے مطابق، جولائی سے ستمبر 2026 کے دوران اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 52 فیصد بڑھ کر 21.5 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے، جبکہ مجموعی برآمدات 11 فیصد اضافے کے ساتھ 11.2 ارب ڈالر رہیں۔

بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر میں 14 فیصد اضافہ ہوا اور ان کا حجم 10.9 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ اسی عرصے میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 20 فیصد اضافے کے ساتھ 72 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئی۔

تاہم، معاشیات کے استاد ارسلان احمد کے مطابق، صرف مثبت معاشی اشاریوں کی بنیاد پر معیشت کی مکمل صورتحال کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔

انہوں نے کہا، ’’وزارتِ خزانہ کے اسکور کارڈ میں زرمبادلہ کے ذخائر، برآمدات، ترسیلاتِ زر، سرمایہ کاری، ٹیکس وصولیوں اور ڈیجیٹل ادائیگیوں میں بہتری کو نمایاں کیا گیا ہے۔ تاہم، درآمدات، مہنگائی، فی کس آمدنی اور غربت سے متعلق اعدادوشمار کی عدم موجودگی کے باعث یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ معاشی بہتری کے ثمرات عام شہریوں تک کس حد تک پہنچ رہے ہیں۔‘‘

بیرونی شعبے میں بہتری کے باوجود دباؤ برقرار

وزارتِ خزانہ کے مطابق، پاکستان کے مجموعی مائع زرمبادلہ کے ذخائر 26.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، جو تین ماہ سے زیادہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔ گزشتہ سال اسی عرصے میں دستیاب ذخائر تقریباً 2.2 ماہ کی درآمدی ضروریات پوری کرنے کے قابل تھے۔

اس دوران روپے کی قدر میں سالانہ بنیادوں پر 1.5 فیصد اضافہ ہوا۔

تاہم، بیرونی ادائیگیوں کے حوالے سے دباؤ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھ کر 87 کروڑ 40 لاکھ ڈالر ہوگیا، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ 75 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تھا۔

ارسلان احمد نے کہا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافہ اور حکومتی قرضوں کا بھاری حجم اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ معیشت کو درپیش بنیادی چیلنجز بدستور موجود ہیں۔

ان کے مطابق، معاشی استحکام کا جائزہ لیتے وقت زرمبادلہ کے ذخائر اور برآمدات کے ساتھ درآمدات، بیرونی ادائیگیوں اور قرضوں کی صورتحال کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ

وزارتِ خزانہ کے اسکور کارڈ کے مطابق، جولائی تا ستمبر 2026 کے دوران پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی مجموعی خالص آمد 3.65 ارب ڈالر رہی، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا خالص اخراج ریکارڈ کیا گیا تھا۔

غیر ملکی نجی سرمایہ کاری میں 44 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 69 کروڑ 10 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی۔ دوسری جانب، غیر ملکی سرکاری سرمایہ کاری کی خالص آمد 2.96 ارب ڈالر رہی، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں اس مد میں 51 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کا خالص اخراج ہوا تھا۔

رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی ٹیکنالوجی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی برآمدات میں بھی بہتری آئی۔ ان کی مالیت 18 فیصد اضافے کے ساتھ 1.25 ارب ڈالر ہوگئی۔

پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں بھی بہتری ریکارڈ کی گئی۔ عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پاکستان کی ریٹنگ Caa1 سے بڑھا کر B3 کردی، جبکہ ایس اینڈ پی نے اسے B- سے بڑھا کر B کردیا۔ فچ نے پاکستان کی B- ریٹنگ برقرار رکھی۔ تینوں اداروں نے ملک کے لیے مستحکم آؤٹ لک برقرار رکھا۔

اس کے علاوہ، پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ توسیعی فنڈ سہولت کے تحت چوتھے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی سہولت کے تحت تیسرے جائزے پر اسٹاف لیول معاہدہ کیا ہے۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق، آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد پاکستان کو تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی اضافی رقم ملنے کی توقع ہے۔

 ٹیکس وصولیوں اور صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ

مالیاتی شعبے میں بھی بعض مثبت رجحانات سامنے آئے۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق، فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 3.1 کھرب روپے کے ٹیکس جمع کیے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں سات فیصد زیادہ ہیں۔ وصولیاں سہ ماہی کے مقررہ ہدف سے بھی تجاوز کرگئیں۔

اسی عرصے میں انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کی تعداد 45 فیصد اضافے کے ساتھ 57 لاکھ 70 ہزار ہوگئی۔

رپورٹ کے مطابق، اسٹیٹ بینک کی پالیسی شرحِ سود ستمبر 2026 تک 11.5 فیصد پر برقرار رہی، جبکہ جون 2024 میں یہ 22 فیصد کی سطح پر تھی۔

حکومت کے مجموعی قرضوں کا حجم اگست 2026 تک 86 کھرب روپے رہا، جو جون 2026 کے مقابلے میں 714 ارب روپے کم ہے۔ ان میں ملکی قرضے 58.8 کھرب روپے تھے، جن میں 684 ارب روپے کی کمی ہوئی، جبکہ بیرونی قرضے 98.2 ارب ڈالر پر مستحکم رہے۔

وزارتِ خزانہ کے مطابق، مالی سال 2025-26 میں قرضوں اور مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کا تناسب 68 فیصد رہا، جبکہ مالی سال 2022-23 میں یہ 75 فیصد تھا۔

صنعتی سرگرمیوں کے حوالے سے جولائی اور اگست 2026 میں بڑی صنعتوں کی پیداوار میں سالانہ بنیادوں پر 1.85 فیصد اضافہ ہوا۔ اسی عرصے میں گاڑیوں کی فروخت 28 فیصد، پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت چھ فیصد، سیمنٹ کی فروخت چار فیصد اور کھاد کی فروخت دو فیصد بڑھی۔

ستمبر 2026 میں نجی شعبے کو فراہم کیے گئے قرضوں کا حجم 11.28 کھرب روپے تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 16.6 فیصد زیادہ ہے۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو فراہم کی جانے والی فنانسنگ میں 66 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 1.14 کھرب روپے ہوگئی، جبکہ ہاؤسنگ فنانس 71.9 فیصد اضافے کے ساتھ 365 ارب روپے تک پہنچ گئی۔

ڈیجیٹل ادائیگیوں اور کاروباری رجسٹریشن میں پیش رفت

وزارتِ خزانہ کے مطابق، مالی سال 2025-26 کے دوران خوردہ ادائیگیوں کی مجموعی تعداد کے لحاظ سے 92 فیصد لین دین ڈیجیٹل طریقے سے کیا گیا۔ ملک میں ڈیجیٹل لین دین کی تعداد 13.2 ارب تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 65 فیصد زیادہ ہے۔ رپورٹ میں 20 لاکھ سے زیادہ فعال ڈیجیٹل تاجروں کی موجودگی بھی ظاہر کی گئی ہے۔

جولائی تا ستمبر 2026 کے دوران نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن میں 45 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی تعداد 15 ہزار 440 ہوگئی۔ ان میں سے 99.9 فیصد رجسٹریشن ڈیجیٹل طریقے سے مکمل کی گئیں۔

حکومت کے مختلف مالی معاونت کے پروگراموں کے تحت وزیراعظم کے ’’اپنا گھر‘‘ پروگرام میں 426 ارب روپے کی منظور شدہ رقم میں سے 76 ارب روپے جاری کیے گئے، جبکہ ’’زرخیز‘‘ پروگرام کے تحت 7.87 ارب روپے کی منظور شدہ رقم میں سے 2.14 ارب روپے جاری ہوئے۔

دوسری جانب، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کے لیے جانچ پڑتال کا عمل جاری رہا۔

رپورٹ کے مطابق، فیصل آباد اور اسلام آباد کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کے لیے دس، دس سرمایہ کاروں کو ابتدائی طور پر اہل قرار دیا گیا، جبکہ گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی کے لیے نو سرمایہ کار اہل قرار پائے۔

معاشی بہتری کے ثمرات عام شہری تک پہنچے؟

ماہرین کے مطابق، معاشی اشاریوں میں بہتری اور عام شہریوں کے معیارِ زندگی میں بہتری دو مختلف پہلو ہیں، جن کا جائزہ الگ الگ لینا ضروری ہے۔

ارسلان احمد نے کہا، ’’معاشی کارکردگی کا جامع جائزہ لینے کے لیے ضروری ہے کہ مجموعی معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ عوام کی قوتِ خرید، روزگار، آمدنی، مہنگائی اور غربت کی صورتحال کو بھی مدنظر رکھا جائے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ اگرچہ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ، برآمدات کی بہتری اور سرمایہ کاری میں اضافہ معاشی استحکام کے لیے اہم ہیں، لیکن ان اشاریوں سے یہ خودبخود ثابت نہیں ہوتا کہ عام شہریوں کی حقیقی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے یا ان کے لیے اشیائے ضروریہ کی خریداری آسان ہوگئی ہے۔

ان کے مطابق، درآمدات، مہنگائی، فی کس آمدنی اور غربت کے تازہ اعدادوشمار کے بغیر یہ طے کرنا مشکل ہے کہ معاشی سرگرمیوں میں اضافے کے باوجود عام گھرانوں کو کن معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ معیشت کی حقیقی صورتحال جانچنے کے لیے حکومت کو مالیاتی استحکام اور سرمایہ کاری کے اعدادوشمار کے ساتھ گھریلو آمدنی، روزگار کے مواقع، قیمتوں میں اضافے اور غربت سے متعلق اشاریے بھی باقاعدگی سے جاری کرنے چاہییں، تاکہ معاشی پالیسیوں کے اثرات کا زیادہ جامع انداز میں جائزہ لیا جا سکے۔

Related posts

خواجہ آصف کی مولانا فضل الرحمان پر تنقید، گزشتہ تقریر کو بلیک میلنگ قرار دے دیا

نصیرآباد میں جعفر ایکسپریس پر راکٹ حملہ، تمام مسافر محفوظ رہے

بلوچستان قدرتی گیس کے ذخائر سے مالا مال مگر چمن اور قلعہ عبداللہ کے عوام گیس کی سہولت سے محروم