پاکستان میں صحت مند خوراک کیلئے زرعی غذائی نظام میں فوری اصلاحات کی ضرورت، ایف اے او

اسلام آباد (پاک ٹوڈے): اقوام متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) نے پاکستان کے زرعی غذائی نظام میں فوری اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ عوام کی صحت مند خوراک تک رسائی بہتر بنائی جاسکے اور غذائی کمی کی مختلف اقسام سمیت اس سے جڑے سماجی اخراجات سے نمٹا جاسکے۔

ایف اے او کے تازہ ترین جائزے ’’پاکستان میں صحت مند خوراک کیلئے غذائی سپلائی‘‘ کے مطابق ملک میں موجودہ غذائی سپلائی اور قومی غذائی رہنما خطوط کے تحت صحت مند خوراک کیلئے درکار مقدار کے درمیان نمایاں فرق موجود ہے، جو ایک بڑا چیلنج ہے۔

جائزے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں 60 فیصد سے زائد افراد صحت مند خوراک خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے، جس کے باعث ملک میں غذائی کمی کی شرح بلند ہے۔ رپورٹ کے مطابق غیر صحت مند خوراک غذائی کمی کی مختلف اقسام کی ایک مشترکہ وجہ ہے اور غیر متعدی امراض سے ہونے والی بیماریوں اور اموات میں بھی براہ راست کردار ادا کرتی ہے۔

ایف اے او نے صحت مند خوراک کی طلب بڑھانے کیلئے صارفین پر مرکوز پالیسیوں، قومی غذائی رہنما خطوط کو اپ ڈیٹ کرنے، چینی والے مشروبات اور زیادہ نمک، شکر و غیر صحت مند چکنائی والی اشیا پر ٹیکس عائد کرنے کی سفارش کی ہے۔ پیک شدہ غذاؤں پر واضح غذائی لیبلنگ، بچوں کو غیر صحت مند خوراک کی تشہیر سے تحفظ، اسکولوں میں غذائی پروگراموں کی توسیع اور سماجی تحفظ کے پروگراموں کو مضبوط بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں زرعی شعبے کے حوالے سے سبزیوں، پھلوں، دالوں، جڑوں اور کندوں کی پیداوار بڑھانے کیلئے پالیسیوں اور سرمایہ کاری کا رخ تبدیل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ بعض علاقوں میں دودھ کی پیداوار کی حوصلہ افزائی اور فوڈ پروسیسرز کو نمک، شکر اور غیر صحت مند چکنائی کم کرنے کیلئے مراعات دینے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے۔

ایف اے او کے مطابق ذخیرہ کرنے کی سہولیات، کولڈ چین اور مارکیٹ انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کے ذریعے غذائی اشیا کے نقصانات کم کیے جاسکتے ہیں جبکہ صحت مند خوراک کی دستیابی اور فروخت کیلئے بہتر ماحول پیدا کیا جاسکتا ہے۔

جائزے میں بتایا گیا ہے کہ سبزیوں، پھلوں، دالوں اور جڑوں سمیت متعدد صحت مند غذاؤں کی سپلائی میں نمایاں کمی ہے، جبکہ بنیادی غذائی اجناس اور شکر کی سپلائی ضرورت سے زیادہ ہے۔ ایف اے او کے مطابق ان پالیسی اقدامات پر عملدرآمد اور باقاعدہ نگرانی سے پاکستان میں صحت مند خوراک کی دستیابی، رسائی اور استعمال میں بہتری لائی جاسکتی ہے۔

Related posts

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا کنٹینر گنڈی چوک کے لیے نکل پڑا

دیر میدان میں چلتی کار پر فائرنگ، 2 بھائی جاں بحق، کروڑوں روپے لے کر ملزمان فرار

خیبرپختونخوا حکومت شدت پسندی کے خلاف اپنا آئینی کردار ادا کرنے پر تیار نہیں، رانا ثنا اللہ