تحریر: اسلام الدین ساجد
اسلام آباد : پاکستان میں عام انتخابات کے بعد دھاندلی کے الزامات اور نتائج پر تنازعات ایک بار پھر انتخابی نظام کی شفافیت پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت نے آئندہ انتخابات کو شفاف اور قابل اعتماد بنانے کے لیے اپوزیشن کو انتخابی اصلاحات پر مذاکرات کی دعوت دینے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم مبصرین کے مطابق اصل چیلنج صرف انتخابی قوانین میں تبدیلی نہیں بلکہ سیاسی جماعتوں اور انتخابی عمل سے متعلق تمام اداروں کے درمیان اعتماد بحال کرنا ہے۔
پاکستانی نشریاتی ادارے جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف نے انتخابی اصلاحات کے لیے قائم کی جانے والی 20 رکنی پارلیمانی کمیٹی میں اپوزیشن کے پانچ ارکان کو شامل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ قومی اسمبلی کے اسپیکر اپوزیشن جماعتوں کو خط لکھ کر کمیٹی میں شمولیت کی دعوت دیں گے اور ان سے اپنے نمائندوں کے نام طلب کیے جائیں گے۔
اس سلسلے میں انتخابی اصلاحات سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کے لیے بیرسٹر عقیل ملک نے سینیٹ میں قرارداد بھی پیش کی ہے۔
حکومت کی یہ کوشش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب فروری 2024 کے عام انتخابات کے بعد دھاندلی کے الزامات نے ملک میں سیاسی تقسیم کو مزید گہرا کیا اور ان کے اثرات اب بھی سیاسی ماحول میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔
فروری 2024 کے عام انتخابات کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور اس کے حمایت یافتہ امیدواروں نے متعدد حلقوں میں نتائج تبدیل کرنے اور انتخابی عمل میں مداخلت کے الزامات عائد کیے تھے۔ پی ٹی آئی کا دعویٰ تھا کہ اس کے حمایت یافتہ امیدواروں نے قومی اسمبلی کی تقریباً دو تہائی نشستوں کے برابر عوامی حمایت حاصل کی تھی، لیکن انتخابی نتائج میں مبینہ تبدیلیوں کے باعث ان کی کامیابیوں کو کم ظاہر کیا گیا۔
پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے الزام لگایا کہ کئی حلقوں میں ابتدائی نتائج اور بعد میں جاری کیے گئے حتمی نتائج میں فرق تھا اور ان کے جیتنے والے امیدواروں کو شکست خوردہ قرار دیا گیا۔
حزب اختلاف کی جانب سے ان الزامات کے تناظر میں حکومت کے لیے ’’فارم 47 کی حکومت‘‘ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ اس سے مراد یہ الزام ہے کہ انتخابی نتائج مرتب کرنے کے عمل میں تبدیلیاں کرکے موجودہ حکمران اتحاد کو اقتدار میں لایا گیا۔
پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ اس کے حمایت یافتہ امیدواروں کو ملنے والے ووٹوں کے مطابق قومی اسمبلی میں اس کی نشستوں کی تعداد موجودہ صورت حال سے کہیں زیادہ ہونی چاہیے تھی۔
انتخابی تنازعات کے باعث متعدد حلقوں میں قانونی چارہ جوئی ہوئی اور انتخابی عمل کی شفافیت پر سیاسی بحث جاری رہی۔
اب دیگر سیاسی جماعتیں بھی انتخابی نظام پر سوال اٹھا رہی ہیں
انتخابی نظام پر تنقید اب صرف پی ٹی آئی تک محدود نہیں رہی۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سمیت مختلف سیاسی رہنماؤں نے بھی بعض انتخابات اور نتائج پر اعتراضات کیے ہیں۔
بلاول بھٹو کی جانب سے گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں کو ’’فارم 47 کی حکومتیں‘‘ قرار دینے سے انتخابی شفافیت کا معاملہ مزید نمایاں ہوا ہے۔ ان کے اس مؤقف کو اس بات کی علامت سمجھا جا رہا ہے کہ انتخابی نتائج پر عدم اعتماد کا معاملہ سیاسی جماعتوں کے مختلف حلقوں میں موجود ہے۔
اس صورت حال میں حکومت کی جانب سے اپوزیشن کو انتخابی اصلاحات کے عمل میں شامل کرنے کی پیشکش اہم ہے، لیکن یہ واضح نہیں کہ آیا تمام بڑی اپوزیشن جماعتیں مجوزہ کمیٹی میں شرکت کریں گی اور کیا اس عمل سے 2024 کے انتخابات سے متعلق ان کے تحفظات دور ہو سکیں گے۔
کیا پاکستان میں شفاف انتخابات ممکن ہیں؟
پاکستان میں انتخابی امور کے ماہر رشید چوہدری نے پاک ٹوڈے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں صاف اور شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن ہے، بشرطیکہ تمام متعلقہ فریق حقیقی سیاسی عزم کا مظاہرہ کریں۔
ان کے مطابق، حکومت، الیکشن کمیشن، سیاسی جماعتوں، ذرائع ابلاغ اور انتخابی عمل پر اثرانداز ہونے والے دیگر فریقوں کو اس بنیادی اصول پر اتفاق کرنا ہوگا کہ انتخابات غیر جانبدارانہ انداز میں منعقد کیے جائیں اور ان کے نتائج کو قبول کیا جائے۔
رشید چوہدری نے کہا کہ انتخابی عمل میں شامل افراد اور اداروں کو سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر کام کرنا چاہیے۔ حکومت کو الیکشن کمیشن کی معاونت تک محدود رہنا چاہیے، جبکہ سیاسی جماعتوں کو انتخابی مقابلے کے بعد نتائج تسلیم کرنے کے لیے بھی تیار ہونا چاہیے۔
ان کے بقول، انتخابات کے دوران ووٹروں کی رائے کو جھوٹ، فریب یا کسی دوسری غیر منصفانہ کوشش کے ذریعے متاثر نہیں کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح انتخابی نتائج مرتب کرنے والے اداروں اور اہلکاروں کی غیر جانب داری پر عوام کا اعتماد بھی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے انتخابی نظام میں شفاف انتخابات منعقد کرانے کی صلاحیت موجود ہے، لیکن سیاسی ماحول اور انتخابی نتائج قبول نہ کرنے کا کلچر اس عمل کو متاثر کرتا ہے۔
رشید چوہدری کے مطابق، انتخابی عمل میں سو فیصد مساوی مواقع فراہم کرنا بھی ایک مشکل ہدف ہے، کیونکہ معاشی ناہمواری، خواتین کی سیاسی شرکت میں رکاوٹیں اور کم آمدنی والے طبقات کے محدود وسائل انتخابی مقابلے کو متاثر کرتے ہیں۔ بعض جماعتوں اور امیدواروں کے پاس زیادہ مالی وسائل ہوتے ہیں، جس سے انتخابی مہم میں عدم مساوات پیدا ہو سکتی ہے۔
تاہم، ان کا کہنا تھا کہ مضبوط جمہوری کلچر، سیاسی برداشت اور ہار جیت قبول کرنے کی روایت کے ذریعے انتخابی نظام میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ انتخابات کو سیاسی جنگ بنانے کے بجائے ایک جمہوری مقابلہ سمجھا جائے اور نتائج کے بعد سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھ کر قومی معاملات پر کام کریں۔
الیکشن کمیشن کا مؤقف کیا ہے؟
اس خبر کے سلسلے میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ترجمان سے مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔
ماضی میں الیکشن کمیشن نے 2024 کے عام انتخابات کے بعد دھاندلی اور نتائج میں مبینہ تبدیلیوں کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ انتخابات آئین اور قانون کے مطابق منعقد کیے گئے۔ کمیشن نے بعض الزامات کو بے بنیاد قرار دیا تھا۔
تاہم، الیکشن کمیشن کے ان بیانات کے باوجود متعدد سیاسی جماعتیں انتخابی عمل پر اپنے تحفظات ظاہر کرتی رہی ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے الزامات، انتخابی عذرداریوں اور عدالتی فیصلوں کا الگ الگ جائزہ لینا ضروری ہے تاکہ ثابت شدہ بے ضابطگیوں اور سیاسی دعوؤں میں فرق کیا جا سکے۔
انتخابی تنازعات کے سیاسی اور معاشی اثرات
پاکستان میں انتخابی نتائج پر اختلافات محض سیاسی جماعتوں کے درمیان تنازعے تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان کے اثرات حکومت کی ساکھ، پارلیمان کی کارکردگی اور معاشی پالیسیوں کے تسلسل پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
سیاسی غیر یقینی صورت حال سرمایہ کاروں کے اعتماد اور کاروباری فیصلوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ اگر بڑی سیاسی جماعتیں انتخابی نتائج اور حکومت کی قانونی حیثیت پر مسلسل سوال اٹھاتی رہیں تو حکومت کے لیے طویل مدتی اصلاحات پر اتفاق رائے پیدا کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
اسی طرح، پارلیمان میں سیاسی تقسیم قومی سلامتی، معاشی استحکام اور خارجہ پالیسی جیسے اہم معاملات پر مشترکہ حکمت عملی بنانے میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
کیا نئی اصلاحات اعتماد بحال کر سکیں گی؟
حکومت کی جانب سے انتخابی اصلاحات کے لیے اپوزیشن کو پارلیمانی کمیٹی میں شامل کرنے کی پیشکش سیاسی اعتماد کی بحالی کی جانب ایک قدم ہو سکتی ہے۔ تاہم، اس عمل کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ کیا کمیٹی صرف قانونی ترامیم تک محدود رہتی ہے یا انتخابی عمل کے بنیادی مسائل کو بھی حل کرتی ہے۔
انتخابی امور کے ماہرین کے مطابق، انتخابی اصلاحات میں نتائج کی بروقت اور شفاف ترسیل، حلقہ وار نتائج کی دستیابی، انتخابی عذرداریوں کا مؤثر حل، انتخابی عملے کی غیر جانب داری اور تمام امیدواروں کے لیے منصفانہ مواقع جیسے معاملات اہم ہیں۔
رشید چوہدری کے مطابق، سب سے بنیادی ضرورت سیاسی عزم ہے۔ اگر حکومت، اپوزیشن، الیکشن کمیشن اور دیگر متعلقہ فریق اس بات پر متفق ہو جائیں کہ انتخابات کے نتائج کو غیر جانبدارانہ طریقے سے مرتب کیا جائے گا اور تمام جماعتیں قابل اعتماد نتائج کو قبول کریں گی تو انتخابی عمل پر اعتماد بحال کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان کے لیے اصل امتحان یہ ہوگا کہ آیا حکومت اور اپوزیشن ماضی کے تنازعات کو ایک طرف رکھ کر ایسے انتخابی نظام پر اتفاق کر سکتے ہیں جس کے نتائج کو تمام بڑی سیاسی جماعتیں قابل قبول سمجھیں۔ بصورت دیگر، انتخابی اصلاحات کی نئی کوشش بھی سیاسی بیانات اور الزامات تک محدود ر ہے گا۔