کابل (پاک ٹوڈے): افغانستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان عبدالقهار بلخی نے دعویٰ کیا ہے کہ 2022 کے آغاز سے اب تک افغانستان میں پاکستانی فوج کے حملوں کے نتیجے میں مجموعی طور پر 1,119 شہری جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔
بلخی نے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں یہ اعداد و شمار پیش کیے۔ انہوں نے رمضان کے دوران کابل میں امید نشے کے علاج کے مرکز پر پاکستانی فوج کے حملے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس واقعے میں سیکڑوں افراد مارے گئے تھے۔
بلخی نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ بے بنیاد الزامات لگانے کے بجائے افغانستان کے ساتھ حقیقی سفارت کاری اور اپنے عوام کے ساتھ ذمہ دارانہ تعامل کے ذریعے سکیورٹی مسائل حل کرے۔
رپورٹ کے مطابق، افغانستان کی جانب سے پاکستانی حملوں میں شہری ہلاکتوں اور زخمیوں کی مجموعی تعداد پہلی بار جاری کی گئی ہے، تاہم اعداد و شمار میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی الگ الگ تعداد نہیں بتائی گئی۔ اس سے قبل اقوام متحدہ حملوں میں متاثرین کے اعداد و شمار جاری کرتی رہی ہے، جبکہ افغان حکومت کی جانب سے الگ الگ واقعات کے اعداد و شمار سامنے آتے تھے۔
