ٹانک (پاک ٹوڈے): کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور ضلعی پولیس نے ٹانک کے علاقے گڑہ فقیرا میں مشترکہ کارروائی کے دوران ٹی ٹی پی بھٹنی گروپ کے تین شدت پسندوں کو مارنے کا دعویٰ کیا ہے۔
سی ٹی ڈی ترجمان کے مطابق اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ تھانہ ایس ایم اے کی حدود میں جنڈولہ روڈ کے قریب گڑہ فقیرا میں شدت پسند کسی بڑی کارروائی کی تیاری کر رہے ہیں۔ اطلاع کی تصدیق کے بعد سی ٹی ڈی نے ضلعی پولیس کے ہمراہ اہلکاروں کو علاقے میں روانہ کیا۔
ترجمان کے مطابق اہلکار موقع پر پہنچے تو وہاں موجود مسلح افراد نے فائرنگ شروع کر دی، جس کے جواب میں اہلکاروں نے بھی فائرنگ کی۔ فائرنگ کا تبادلہ کافی دیر جاری رہا۔ بعد ازاں علاقے میں سرچ آپریشن کیا گیا، جس کے دوران تین افراد کی لاشیں ملنے کا دعویٰ کیا گیا۔
سی ٹی ڈی کے مطابق مارے جانے والے دو افراد کی شناخت اسامہ ولد سلطان اور سلیمان ولد ولی محمد، ساکنان فقیر کلے جنڈولہ، کے نام سے ہوئی ہے، جبکہ تیسرے شخص کی شناخت کا عمل جاری ہے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق مذکورہ افراد ماضی میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔ حکام کے مطابق ان افراد نے میرا عالم پمپ کے قریب ایک دکان کی چھت پر دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) نصب کیا تھا، جس کے دھماکے میں ایک شہری اور دو پولیس اہلکار جان سے گئے، جبکہ سات افراد زخمی ہوئے تھے۔ ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ وانا بازار کی مرکزی سڑک اور امن کمیٹی کے سربراہ بلال کے دفتر کی چھت پر بھی آئی ای ڈیز نصب کی گئی تھیں۔
سی ٹی ڈی کے مطابق اسامہ کا بھائی شعیب 2025 میں بنوں کینٹ پر حملے کے دوران مارا گیا تھا، جبکہ وانا بازار میں پولیس پر حملے کے دوران مارا جانے والا موسیٰ اسامہ کا چچا زاد بھائی تھا۔
حکام کے مطابق سرچ آپریشن کے دوران تین کلاشنکوفیں، 11 میگزین بمعہ گولہ بارود اور ایک موبائل فون بھی برآمد کیا گیا۔
سی ٹی ڈی کی جانب سے مقابلوں میں شدت پسندوں کو مارنے کے دعووں کے ساتھ ان واقعات کی آزادانہ تصدیق اور شفاف تحقیقات بھی اہم ہیں۔ ماضی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بعض مبینہ مقابلوں اور زیرِ حراست افراد کی ہلاکتوں پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔
انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید اور ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی نے کارروائی میں حصہ لینے والے اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور بہادری کو سراہا۔ حکام نے کہا کہ صوبے سے شدت پسندی کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔