وفاقی وزیر احسن اقبال کی ۱۵ نئے صوبوں کی تجویز پر سیاسی بحث گرم، حکومتی موقف تقسیم

اسلام آباد (پاک ٹوڈے): وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کی جانب سے ملک میں ۱۵ نئے صوبے بنانے کی تجویز نے ملکی سیاسی اور انتظامی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک انٹرویو میں احسن اقبال کا کہنا تھا کہ موجودہ انتظامی نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے اور بہتری کے لیے ہر صوبے کو تین انتظامی حصوں میں تقسیم کیا جانا چاہیے۔ ان کے بقول اس معاملے پر سیاسی اتفاقِ رائے پیدا کرنے کے لیے ایک جائزہ کمیٹی قائم کی جانی چاہیے۔

وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے بھی فرسودہ انتظامی نظام کو تبدیل کر کے نئے یونٹس بنانے کے خیال کی حمایت کی ہے، تاہم وزیرِ اعظم کے مشیر رانا احسان افضل نے واضح کیا ہے کہ فی الوقت نئے صوبوں کی تشکیل یا کسی جائزہ کمیٹی کے قیام کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔

دوسری جانب یہ تنازع وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے "سسٹم کولیپس” کے بیان کے بعد شدت اختیار کر گیا ہے، جس پر سندھ اسمبلی پہلے ہی صوبے کی ممکنہ تقسیم کے خلاف ایک متفقہ قرارداد منظور کر چکی ہے۔

Related posts

15 صوبے بنانے کا حکومتی فیصلہ غلط، فاٹا انضمام بھی بدترین ثابت ہوا: مولانا فضل الرحمان

شاہد آفریدی کو سندھ پولیس اسپورٹس بورڈ کے سفیرِ کھیل مقرر کر دیا گیا۔

ضلع کرم میں پولیس افسر کو نامعلوم افراد نے اغواء کر لیا۔