وفاقی بقایاجات اور قبائلی اضلاع کے حقوق کے حصول کے لیے فوری اقدامات ناگزیر، نثار باز خان

پشاور (پاک ٹوڈے): رکن خیبرپختونخوا اسمبلی نثار باز خان نے قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں صوبے کے مالی حقوق، نیٹ ہائیڈل پرافٹ (NHP)، ساتویں نیشنل فنانس کمیشن (NFC) ایوارڈ اور 25ویں آئینی ترمیم کے تحت قبائلی اضلاع سے کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

اجلاس کی صدارت قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین ارباب محمد عثمان خان نے کی، جبکہ کمیٹی کے دیگر اراکین اسمبلی بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔

اجلاس کے دوران محکمہ خزانہ کی جانب سے پیش کی گئی دستاویزات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی اراکین نے بعض امور پر اطمینان کا اظہار کیا، جبکہ متعدد معاملات پر مزید وضاحت اور متعلقہ ریکارڈ بھی طلب کیا گیا۔

نثار باز خان نے کہا کہ صوبائی حکومت وفاق کے ذمے خیبرپختونخوا کے واجب الادا بقایاجات کے حصول کے لیے فوری عملی اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے مالی حقوق کا حصول اور وفاق سے واجبات کی بروقت ادائیگی خیبرپختونخوا کے عوام کا حق ہے۔

انہوں نے قبائلی اضلاع کے مالی حقوق اور ترقیاتی فنڈز کی فراہمی یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 25ویں آئینی ترمیم کے تحت قبائلی اضلاع کے عوام سے کیے گئے وعدوں کو عملی جامہ پہنانا ضروری ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کی تاخیر قابلِ قبول نہیں ہونی چاہیے۔

رکن صوبائی اسمبلی نے نیٹ ہائیڈل پرافٹ اور ساتویں این ایف سی ایوارڈ سے متعلق صوبے کے حقوق کے حصول کے لیے بھی مؤثر حکمتِ عملی اپنانے پر زور دیا۔

نثار باز خان نے کہا کہ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا بنیادی مقصد مالی معاملات میں شفافیت، احتساب اور عوامی وسائل کے مؤثر استعمال کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی وسائل کو عوامی فلاح و بہبود اور ترقیاتی منصوبوں پر مؤثر انداز میں خرچ کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبے کے مالی حقوق، وفاقی بقایاجات اور قبائلی اضلاع کے جائز مطالبات کے لیے متعلقہ فورمز پر مؤثر آواز اٹھائی جاتی رہے گی۔

Related posts

لاہور: ای بائیکس اسکیم اور مفت اسکوٹی ٹریننگ کا آغاز

27 ستمبر کا احتجاج: پی ٹی آئی پر حالات خون آلود بنانے کی منصوبہ بندی کا الزام

لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب کے میڈیکل کالجز کو افغان طلبہ نکالنے سے روک دیا۔