واشنگٹن (پاک ٹوڈے): ٹرمپ انتظامیہ نے نیٹو کے اتحادی ممالک کو ایک موصولہ سوال نامہ بھیج کر امریکی پالیسیوں اور عسکری اقدامات کی حمایت کے حوالے سے ان کی وفاداری کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے بلومبرگ کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق اس سوال نامے میں نیٹو ممالک کے دفاعی بجٹ، امریکی دفاعی صنعت سے خریداریاں اور امریکی کمپنیوں سے عسکری سامان کی خریداری کی رسیدیں طلب کی گئی ہیں۔ مزید برآں، اتحادی ممالک سے امریکی فوجیوں اور فوجی اڈوں کے استعمال پر ممکنہ پابندیوں نیز "میڈ ان یورپ” پالیسیوں پر ان کے باضابطہ موقف کے بارے میں دریافت کیا گیا ہے۔
امریکی اتحادیوں نے اس اقدام کو سیکیورٹی کی ضمانت کے بدلے سیاسی و نظریاتی ہم آہنگی کو جبر سے مسلط کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب واشنگٹن یورپ میں اپنی عسکری موجودگی کا شش ماہی جائزہ لے رہا ہے جو رواں سال دسمبر میں مکمل ہوگا۔ دوسری جانب، نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک رٹے نے اس جائزے کو ایک مثبت قدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس نوعیت کی جانچ پڑتال سے اتحادی ممالک ایک دوسرے کے مزید قریب آئیں گے۔