نااہلی کی صورت میں مزید خطرناک ہو جاؤں گا، سہیل آفریدی

پشاور (پاک ٹوڈے): وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ اگر انہیں عہدے سے ہٹانے یا نااہل کرنے کی کوشش کی گئی تو عوامی ردعمل سامنے آئے گا اور ایسی صورت میں وہ مزید سخت مؤقف اختیار کریں گے۔

ایوان وزیراعلیٰ پشاور میں سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا فیصلہ برقرار ہے، جبکہ وفاقی حکومت کے پاس مذاکرات اور افہام و تفہیم کے ذریعے معاملہ حل کرنے کے لیے 7 دن ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 27 ستمبر کا مارچ حکمت عملی کے تحت مؤخر کیا گیا تھا، تاہم 4 اکتوبر کو واپسی کا فیصلہ حقیقی آزادی کے حصول سے مشروط ہے۔ ان کے مطابق لانگ مارچ کے لیے بڑی تعداد میں گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کا انتظام کرلیا گیا ہے اور اگر کوئی مہم جوئی کی گئی تو 24 گھنٹے کی کال پر کارکن اور عوام سڑکوں پر نکل سکتے ہیں۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ مسلح جتھے کے سربراہ نہیں بلکہ سیاسی جدوجہد کرنے والے لوگ ہیں۔ انہوں نے وفاقی وزیر اطلاعات کی جانب سے اپنے بارے میں دیے گئے بیانات پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا کمانڈر یا بی ٹیم قرار دینا نفرت پھیلانے کے مترادف ہے۔

وزیراعلیٰ نے اپنی ممکنہ نااہلی کے حوالے سے کہا کہ اگر انہیں نااہل کیا گیا تو وہ مزید خطرناک ثابت ہوں گے اور لوگ سڑکوں پر نکل آئیں گے، جس کے نتیجے میں حکومت برقرار نہیں رہ سکے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انہیں عہدے سے ہٹایا گیا یا نااہل قرار دیا گیا تو متبادل کا فیصلہ عمران خان خود کریں گے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا نااہلی سے متعلق کوئی غیر آئینی اقدام کیا گیا تو اس کا عوامی ردعمل سامنے آئے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کرسی ان کے مقصد کی راہ میں رکاوٹ بنی تو وہ عہدہ چھوڑنے سے گریز نہیں کریں گے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ وفاق اور خیبرپختونخوا کے درمیان کشیدگی کو مذاکرات کے ذریعے ختم کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق وفاق کو آئندہ 7 دن کے دوران افہام و تفہیم کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کرنا چاہیے۔

انہوں نے افغانستان کے ساتھ کشیدگی اور سرحدی گزرگاہوں کی بندش پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ اس صورتحال سے خیبرپختونخوا متاثر ہو رہا ہے، اس لیے افغان حکومت کے ساتھ قومی جرگے کے ذریعے مذاکرات کیے جانے چاہئیں۔

Related posts

لکی مروت میں پولیس اور سی ٹی ڈی کا مشترکہ آپریشن، مطلوب شدت پسند کمانڈر منظور مارا گیا

مستونگ: نامعلوم افراد نے گورنمنٹ بوائز ہائی سکول کی عمارت کو دھماکے سے اڑا دیا

شمالی کوریا کی ڈرونز اور میزائلوں کے امتزاج سے ’سوارم حملوں‘ کی مشقیں