پشاور (پاک ٹوڈے): مہنگائی میں مسلسل اضافے کے باعث پشاور کے کم آمدنی والے گھرانوں کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے، جہاں 89 فیصد خاندان روزمرہ اخراجات پورے کرنے کے لیے قرض لینے پر مجبور ہیں، جبکہ 95.1 فیصد گھرانوں کے لیے قرض کی واپسی مشکل ہوگئی ہے۔
انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز کے چیئرمین ڈاکٹر محمد اقبال خلیل نے پشاور پریس کلب میں مہنگائی سے متعلق سروے رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ رپورٹ پشاور کے 462 گھرانوں سے حاصل معلومات، فوکس گروپ مباحثوں اور مختلف شراکت داروں کے ساتھ مکالمے کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔
ڈاکٹر اقبال خلیل کے مطابق مہنگائی پورے پاکستان کا مسئلہ ہے تاہم پشاور کے گھرانے بھی اس سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ سروے کے مطابق مختلف اشیائے ضروریہ اور خدمات کی قیمتوں میں مجموعی طور پر 35 سے 40 فیصد تک اضافہ ہوا، جبکہ کم آمدنی والے علاقوں میں 48.7 فیصد گھرانوں نے خود کو مہنگائی سے انتہائی متاثر قرار دیا۔
رپورٹ کے مطابق 67.3 فیصد گھرانوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان کی آمدن میں اضافہ ہوا ہے، تاہم اخراجات اس سے کہیں زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ بجلی، گیس اور تیل کے اخراجات میں اضافے کی شکایت 93 فیصد گھرانوں نے کی، جبکہ 86.4 فیصد خاندانوں کے خوراک کے اخراجات بھی بڑھ گئے ہیں۔
سروے میں بتایا گیا کہ مہنگائی کے باعث بیشتر گھرانے کم قیمت اشیائے خورونوش پر گزارا کرنے پر مجبور ہیں۔ صحت کے بڑھتے اخراجات بھی عام خاندانوں کے لیے بڑا مسئلہ بن گئے ہیں، جبکہ 79.4 فیصد گھرانوں نے کہا کہ وہ علاج معالجے کے اخراجات برداشت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔
تعلیم کے شعبے میں بھی مہنگائی کے اثرات سامنے آئے۔ سروے کے مطابق 59.1 فیصد گھرانوں نے سکول فیس کی ادائیگی میں تاخیر کی، جبکہ 19.2 فیصد خاندانوں نے اپنے بچوں کو مہنگے سکولوں سے نکال کر کم فیس والے سکولوں میں منتقل کیا۔
ڈاکٹر اقبال خلیل کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے گھریلو بجٹ کے ساتھ آمدورفت کے اخراجات کو بھی متاثر کیا ہے۔ ان کے مطابق فروری 2026 سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں 84.6 فیصد گھرانوں نے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کی شکایت کی۔