مکہ دفاعی معاہدہ: پاکستانی فوج کی سعودی عرب میں موجودگی کی تصدیق

اسلام آباد (پاک ٹوڈے): پاکستان کی مسلح افواج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے تصدیق کی ہے کہ پاکستانی فوجی پہلے ہی سعودی عرب میں موجود ہیں اور مختلف صلاحیتوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستانی افواج سعودی عرب میں موجود ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان عسکری تعاون کوئی نیا یا اچانک قائم ہونے والا انتظام نہیں۔

سی این این کے نمائندے ایوان واٹسن کے سوال پر کہ آیا مکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستانی فوجی یا عسکری عملہ پہلے ہی سعودی عرب میں موجود ہے، پاکستانی فوج کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی فوجی کئی دہائیوں سے سعودی عرب میں موجود ہیں اور مختلف صلاحیتوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان سفارتی، سیاسی، فوجی اور عوامی سطح پر مسلسل تعلقات موجود ہیں، جبکہ مکہ دفاعی معاہدہ انہی دیرینہ تعلقات کا تسلسل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی افواج سعودی عرب میں متعدد صلاحیتوں اور شعبوں میں پہلے ہی موجود ہیں۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مکہ دفاعی معاہدے کے تحت اجتماعی دفاع کے وعدوں پر عمل درآمد اور سعودی عرب میں متفقہ فوجی دستوں اور دفاعی صلاحیتوں کی تعیناتی کے لیے اقدامات تیز کیے جا رہے ہیں۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے 7 اگست 2026 کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ طے کیا تھا۔ معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک کے خلاف مسلح حملے کو تینوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔

پاکستان نے معاہدے کو دفاعی نوعیت کا قرار دیا ہے، جبکہ حالیہ دنوں میں تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون اور رابطوں میں بھی تیزی دیکھی گئی ہے۔

Related posts

پشاور کے مختلف علاقوں میں موبائل سروس معطل

پاکستان کی بہتری کے لیے سیاسی راستہ نکالا جا رہا ہے، ایاز صادق

اسلام آباد پولیس کی نئی سوشل میڈیا پالیسی نافذ، یونیفارم میں ویڈیوز اور تصاویر پر پابندی