اسلام آباد (پاک ٹوڈے): جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جماعت نئی تشکیل دی جانے والی کونسل میں شامل نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ کسی عہدے کا مطالبہ کریں گے تو گورنر نہیں بلکہ صدر یا وزیراعظم کے عہدے کا کریں گے۔
جے یو آئی کی مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا اقدام بلاجواز ہے اور ایسے فیصلے ملک کو سیاسی طور پر نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے تاکہ ارکان کو دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی اور حکومتی اقدامات کے پس منظر سے آگاہ کیا جا سکے۔
مولانا فضل الرحمان نے گورنر راج کے قانونی طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے اور کہا کہ قومی مفاد سے متعلق فیصلے کسی ایک قوت کے بجائے اجتماعی مشاورت سے ہونے چاہئیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ سابق قبائلی علاقوں میں ایمرجنسی کے نفاذ کے ذریعے وفاقی حکومت ان علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنا چاہتی ہے۔ ان کا الزام تھا کہ دہشت گردی کو جواز بنا کر صوبے کے معدنی وسائل پر قبضے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ ان کی جماعت کو سرمایہ کاری پر اعتراض نہیں، تاہم پاکستان کے وسائل اور سابق قبائلی علاقوں میں عالمی قوتوں کی دلچسپی پر قوم کو اعتماد میں لیا جانا چاہیے۔ انہوں نے دہشت گردی سے متعلق حکومتی پالیسی پر نظرثانی اور بغیر ثبوت الزامات سے گریز کرنے پر بھی زور دیا۔
مولانا فضل الرحمان نے ملکی معیشت کی صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے کسانوں اور عوام کو درپیش مشکلات کا ذکر کیا اور 2018 اور 2024 کے انتخابی نتائج کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے شفاف انتخابات کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے اعلان کیا کہ سابق فاٹا کے معاملے پر نومبر کے ابتدائی ہفتوں میں جرگہ بلایا جائے گا۔ اس کے علاوہ طلبہ اور اساتذہ کنونشنز سمیت دیگر سیاسی سرگرمیاں بھی منعقد کی جائیں گی۔