اسلام آباد (پاک ٹوڈے): جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے حکومت پر جمہوریت، آئین اور قانون کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کیا اور خبردار کیا کہ اگر حکومت تصادم کا راستہ اختیار کرے گی تو ان کی جماعت بھی مقابلے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں برداشت کا ماحول ختم ہوتا جا رہا ہے اور سیاسی معاملات مسلسل بگاڑ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے لانگ مارچ کے معاملے پر وزیراعظم سے ہونے والی ملاقات اور پس پردہ رابطوں کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ جب لانگ مارچ اسلام آباد کی جانب بڑھ رہا تھا تو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں نے ان سے رابطہ کیا اور اس معاملے میں کردار ادا کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ ان کے مطابق اگلے روز رانا ثناء اللہ ان سے ملنے آئے، جس کے بعد تفصیلی گفتگو ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ اسی رات وزیراعظم آفس سے فون آیا اور انہیں کھانے پر مدعو کیا گیا۔ ملاقات کے دوران وزیراعظم نے لانگ مارچ ختم کرنے کی بات کی، تاہم رات ساڑھے دس بجے اسحاق ڈار نے فون کرکے بتایا کہ کابینہ اس تجویز پر متفق نہیں۔ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ انہوں نے سیاسی بحران کو بہتر انداز میں حل کرنے اور ملک کو تصادم سے بچانے کی بھرپور کوشش کی۔
گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ پر تنقید کرتے ہوئے جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے کہا کہ حکومت آئینی طریقۂ کار اختیار کرنے کی بات کرتی ہے، لیکن ان کے بقول آئین کو غلط انداز میں استعمال کیا گیا اور طاقت کے ذریعے انتقالِ اقتدار کا راستہ اختیار کیا گیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ آئین کے آرٹیکل 2-اے کو بھی نظر انداز کیا گیا۔
بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے سوال اٹھایا کہ جب وہاں کمشنر تک اغوا ہو رہے ہیں اور خان آف قلات کے بیٹے کے اغوا کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں تو وفاقی حکومت امن و امان برقرار رکھنے میں کس حد تک کامیاب ہے؟ انہوں نے کہا کہ ملک کے مختلف حصوں میں پیدا ہونے والی صورتحال پر سنجیدہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔
اپنی جماعت کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام شہداء کی جماعت ہے، لیکن اس کی قربانیوں کا مذاق اڑایا جاتا ہے اور اسے طعنے دیے جاتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تشدد کا راستہ اختیار کرنا مسائل کا حل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت ٹکر لینے کے لیے تیار ہے تو جے یو آئی بھی پیچھے نہیں ہٹے گی۔
انہوں نے حکومتی بنچوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب ان پر مشکل وقت تھا تو وہ سیاسی میدان میں بھرپور کردار ادا کرتے رہے۔ ان کے مطابق، وہ مسلسل رابطوں اور مذاکرات کے ذریعے ملک کو خون خرابے سے بچانے کی کوشش کرتے رہے، تاہم سیاسی معاملات کو تصادم کی جانب لے جانا کسی کے مفاد میں نہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے حکومت اور اپوزیشن پر زور دیا کہ وہ اختلافات کم کرکے ایک میز پر بیٹھیں اور نئے میثاقِ جمہوریت کی بنیاد رکھیں، تاکہ ملک کو غیر آئینی اقدامات، سیاسی کشیدگی اور تشدد سے محفوظ رکھا جا سکے۔
انہوں نے کہا، ’’ہم آپ کے ہاتھوں مرنے کو تیار ہیں، مگر تاریخ کے ہاتھوں مرنے کو تیار نہیں۔ یہ ملک کسی فوجی یا جرنیل کا نہیں، ہم سب کا ہے۔‘‘
معدنیات کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے سوال اٹھایا کہ اس بحث کا آغاز کس نے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی تجاوزات روکنے کے لیے جماعتی قوت سامنے لائی جا رہی ہے، جبکہ ان کی جماعت نے کوئی تجاوز نہیں کیا۔ خطاب کے اختتام پر انہوں نے حکومت کو خبردار کیا کہ اگر اس نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو ان کی جماعت سخت سیاسی ردعمل دے گی۔ انہوں نے اپنے مخصوص جارحانہ انداز میں ’’دمادم مست قلندر‘‘ کی بات بھی کی اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی موجودہ صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس کا ’’سر ادھر اور دھڑ ادھر‘‘ ہے۔
قومی اسمبلی میں مولانا فضل الرحمان کے خطاب نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی، آئینی اقدامات اور مذاکرات کے مستقبل سے متعلق بحث کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔