اسرائیلی انتخابات کے علاقائی اثرات: غزہ سے ایران تک کیا بدلے گا؟

تحریر: ریاض حسین

اسرائیل میں انتخابات کے نتائج اور وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے سیاسی مستقبل نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، بالخصوص غزہ، ایران، لبنان اور عرب ممالک کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ماہرین کے مطابق نیتن یاہو کی اقتدار میں واپسی خطے کی موجودہ پالیسیوں کے تسلسل کا باعث بن سکتی ہے، جبکہ ان کی حکومت کے خاتمے سے سفارتی حکمتِ عملی میں تبدیلی کے کچھ امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔

اسرائیلی پارلیمنٹ، کنیسٹ، کی 120 نشستوں میں حکومت بنانے کے لیے کم از کم 61 نشستیں درکار ہیں۔ ابتدائی انتخابی اندازوں میں نیتن یاہو کے دائیں بازو کے اتحاد کو مشکلات کا سامنا دکھایا گیا ہے، تاہم حتمی نتائج اور نئی حکومت کی تشکیل کے لیے سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات اہم ہوں گے۔ اگر کسی بھی اتحاد کو واضح اکثریت نہ ملی تو حکومت سازی کا عمل طویل ہو سکتا ہے۔

عبدالولی خان یونیورسٹی کے شعبۂ بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر ڈاکٹر عبدالشکور نے کہا ہے کہ اسرائیلی انتخابات کے اثرات محض اسرائیل کی داخلی سیاست تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے سیاسی اور تزویراتی حالات پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

ان کے مطابق نیتن یاہو کی علاقائی تنازعات سے متعلق جارحانہ حکمتِ عملی اور مشرقِ وسطیٰ کے لیے ان کا سیاسی تصور خطے میں کشیدگی کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔

ڈاکٹر عبدالشکور نے کہا کہ نیتن یاہو کی کامیابی علاقائی استحکام کے لیے مثبت پیش رفت نہیں ہوگی، کیونکہ ان کا سخت گیر سیاسی مؤقف اور جارحانہ طرزِ عمل پہلے سے کشیدہ حالات کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔

تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ اسرائیل میں حکومت کی تبدیلی سے ملکی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلی کی ضمانت نہیں دی جا سکتی، کیونکہ اہم قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے معاملات میں سیاسی قیادت کی تبدیلی کے باوجود تسلسل برقرار رہ سکتا ہے۔

غزہ اور فلسطین کا مستقبل

نیتن یاہو کے دوبارہ اقتدار میں آنے کی صورت میں غزہ میں حماس کے خلاف سخت پالیسی جاری رہنے اور جنگ بندی، انسانی امداد، تعمیرِ نو اور فلسطینی ریاست کے قیام سے متعلق مذاکرات میں مشکلات برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔

اسرائیلی حکومت کی مستقبل کی پالیسی اس بات پر منحصر ہوگی کہ وہ فوجی کارروائیوں کو ترجیح دیتی ہے یا دیرپا سیاسی حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرتی ہے۔

ڈاکٹر عبدالشکور کے مطابق نیتن یاہو کی رخصتی سے خطے میں سیاسی اور سفارتی حکمتِ عملی پر اثر پڑ سکتا ہے، تاہم نئی حکومت کے لیے بھی فلسطین کے مسئلے کا حل آسان نہیں ہوگا۔

اسرائیل کی اپوزیشن جماعتوں کے درمیان فلسطینی ریاست، غزہ کے مستقبل اور قومی سلامتی کے معاملات پر اختلافات موجود ہیں۔ اس لیے نئی قیادت کے آنے سے فوری طور پر اسرائیلی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی توقع رکھنا قبل از وقت ہوگا۔

ایران کے ساتھ کشیدگی اور وسیع علاقائی جنگ کا خطرہ

ایران کے ساتھ اسرائیل کی کشیدگی مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کے لیے اہم ترین چیلنجز میں شامل ہے۔ نیتن یاہو کی حکومت ایران کی فوجی صلاحیتوں اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ کو اسرائیل کے لیے بڑا خطرہ قرار دیتی رہی ہے۔

اگر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو فوجی کارروائیوں، جوابی حملوں اور خطے میں سرگرم ایران کے اتحادی گروہوں کی شمولیت کے باعث تنازع وسیع ہونے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

ایسی صورتحال نہ صرف علاقائی امن کو متاثر کر سکتی ہے بلکہ تیل کی عالمی رسد، بحری تجارت اور توانائی کی قیمتوں پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔

ڈاکٹر عبدالشکور نے کہا کہ اگر نیتن یاہو اقتدار میں واپس نہیں آتے تو خطے کی سیاسی صورتحال میں قابلِ ذکر تبدیلی کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اس تبدیلی سے ایران کے حوالے سے امریکی پالیسی پر نیتن یاہو کے اثر و رسوخ اور واشنگٹن پر سفارتی دباؤ میں بھی کسی حد تک کمی آ سکتی ہے۔

تاہم، ایران کے بارے میں اسرائیل کی پالیسی کا تعین صرف وزیراعظم کی شخصیت نہیں کرتی بلکہ قومی سلامتی کے تقاضے، امریکی مؤقف اور خطے کے دیگر حالات بھی اس پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کا سفارتی کردار

پروفیسر ڈاکٹر عبدالشکور نے کہا کہ پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی رابطے اور بدلتے ہوئے علاقائی تعلقات مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی اور سلامتی کی صورتحال پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

ان کے مطابق اسرائیلی انتخابات کے نتائج خطے میں مختلف ممالک کی سفارتی ترجیحات اور باہمی تعلقات کی نئی صف بندی کا سبب بن سکتے ہیں۔

نیتن یاہو کی کامیابی کی صورت میں سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، خصوصاً اگر فلسطینی ریاست کے قیام اور غزہ کے مستقبل پر اختلافات برقرار رہے۔

اس کے برعکس، اگر نئی اسرائیلی حکومت فلسطینی مسئلے پر مذاکرات کے لیے زیادہ آمادگی ظاہر کرتی ہے تو عرب ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات میں پیش رفت کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ تاہم، اس کا انحصار سعودی عرب کے مطالبات، امریکی پالیسی اور فلسطینی مسئلے پر عملی پیش رفت پر ہوگا۔

اسرائیل میں سیاسی تعطل کے علاقائی اثرات

ایک اور امکان یہ ہے کہ نیتن یاہو کا اتحاد اور اپوزیشن دونوں حکومت بنانے کے لیے درکار اکثریت حاصل نہ کر سکیں۔ ایسی صورت میں حکومت سازی کے لیے مذاکرات طویل ہو سکتے ہیں اور نیتن یاہو عبوری وزیراعظم کے طور پر عہدے پر برقرار رہ سکتے ہیں۔

سیاسی تعطل کے دوران بھی اسرائیلی حکومت کو اہم دفاعی اور سلامتی سے متعلق فیصلے کرنا ہوں گے۔ اس لیے صرف انتخابی نتائج میں تبدیلی سے فوری طور پر فوجی یا خارجہ پالیسی تبدیل ہونے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔

امریکہ کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات بھی اہم ہوں گے۔ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون جاری رہ سکتا ہے، لیکن غزہ، ایران اور خطے میں فوجی کارروائیوں کے مستقبل پر اختلافات پیدا ہونے کی صورت میں واشنگٹن اسرائیلی حکومت پر سفارتی دباؤ بڑھا سکتا ہے۔

پاکستان کی معیشت اور علاقائی استحکام پر ممکنہ اثرات

اسرائیلی انتخابات کے نتائج پاکستان کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ ایران کے ساتھ کشیدگی یا وسیع علاقائی تنازع توانائی کی عالمی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور علاقائی تجارت کو متاثر کر سکتا ہے۔

تیل کی قیمتوں میں اضافے سے پاکستان کے درآمدی اخراجات، زرمبادلہ کے ذخائر اور مہنگائی پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ اس کے برعکس، علاقائی کشیدگی میں کمی سے توانائی کی منڈیوں اور تجارت کے لیے نسبتاً سازگار حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔

پاکستان کی سفارتی ترجیحات میں فلسطینی عوام کے حقوق، فلسطینی ریاست کے قیام اور تنازعات کے پُرامن حل کی حمایت شامل ہے۔

مجموعی طور پر اسرائیلی انتخابات کے علاقائی اثرات کا تعین صرف اس بات سے نہیں ہوگا کہ نیتن یاہو اقتدار میں رہتے ہیں یا نہیں، بلکہ اس بات سے بھی ہوگا کہ نئی حکومت غزہ، ایران اور عرب ممالک کے ساتھ تعلقات میں فوجی دباؤ کو ترجیح دیتی ہے یا مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

Related posts

9 مئی ریڈیو پاکستان حملہ کیس، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سمیت اہم رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری

ایران کے 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم کا سراغ نہیں مل سکا، رافیل گروسی

جسٹس محسن اختر کیانی مستعفی، استعفیٰ صدرِ پاکستان کو ارسال